ہوگاؔ جب تک کہ ہر ایک سلیم طبیعت میں اپنی سلطنت قائم نہ کرے اور فلسفہ کی زہر کھانے والے اس تریاق کے منتظر تھے۔ سو خدائے تعالیٰ نے اس کو ظاہر کردیا اور ناپاک معقولیت کا غلبہ توڑنے کیلئے اس نے یہی چاہا کہ قرآنی معقولیت کا غلبہ ظاہر کرے اور مخالفوں کی باطل معقولیت کو پِیس ڈالے۔ مگر افسوس ان لوگوں پر جو وقت کو شناخت نہیں کرتے۔ انہیں اس بات کا بھی خیال نہیں کہ مسلمانوں کی ذریت کو بیرونی حملوں اور فتنوں کی وجہ سے کیسی ہر روز ناقابل برداشت تکلیفیں پیش آرہی ہیں اور کس قدر اسلام کو فلسفیانہ وساوس سے صدمہ پہنچ گیا ہے یہاں تک کہ ایک بڑا حصہ نو تعلیم یافتہ مسلمانوں کا ایسا اسلام سے دور جا پڑا ہے کہ گویا اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہے۔ ایسا ہی بہت سے نادان اور کم عقل اسلام کی روشنی کو ترک کر کے عیسائی عقائد کی ظلمت میں داخل ہوگئے اور ایک قابل شرم عقیدہ جو جائے ننگ و عار ہے اختیار کر لیا ہے۔ اس کا یہی سبب ہوا کہ زمانہ حال کے بیہودہ اعتراضات جو دھوکہ اور سفسطہ سے بھرے ہوئے تھے ان کی نظر ناقص میں باوُقعت معلوم ہوئے۔ ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ بعض باتوں میں اس زمانہ کے علماء خود ہی عیسائیوں وغیرہ کو ان کی مشرکانہ تعلیم پر مدد دیتے ہیں۔ مثلاً حال کے عیسائیوں کے عقائد باطلہ کے رو سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو حضرت عیسٰی ؑ کو خدا بنانے کیلئے گویا عیسائی مذہب کا یہی ایک ستون ہے لیکن زمانہء حال کے مسلمان ایک طرف تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور زمین میں مدفون ہونے کا اقرار کر کے پھر اس بات کے بھی اقراری ہو کر کہ مسیح اب تک زندہ ہے عیسائیوں کے ہاتھ میں ایک تحریری اقرار اپنا دے دیتے ہیں کہ