گذؔ شتہ اکابر اور اماموں کو ان تکفیر کے فتووں سے َ بری کردیا اور نہ صرف بری بلکہ ان کی قطبیّت اور غوثیت اور اعلیٰ مراتب ولایت کے قائل بھی ہوگئے اور اسی طرح علماء کی عادت رہی اور ایسے سعید ان میں سے بہت ہی کم نکلے جنہوں نے مقبولان درگاہ الٰہی کو وقت پر قبول کر لیا امام کامل حسین رضی اللہ عنہ سے لیکر ہمارے اس زمانہ تک یہی سیرت اور خصلت ان ظاہر پرست مدعیان علم کی چلی آئی کہ انہوں نے وقت پر کسی مرد خدا کو قبول نہیں کیا خدائے تعالیٰ نے یہودیوں کی نسبت قرآن کریم میں بیان فرمایا تھا کہ33۱؂ ۔ الخ یعنی اے بنی اسرائیل کیا تمہاری یہ عادت ہوگئی کہ ہر ایک رسول جو تمہارے پاس آیا تو تم نے بعض کی ان میں سے تکذیب کی اور بعض کو قتل کر ڈالا۔ سو یہی خصلت اسلام کے علماء نے اختیار کرلی تا یہودیوں سے پوری پوری مشابہت پیدا کریں سو انہوں نے نقل اتارنے میں کچھ فرق نہیں رکھا اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کہ تا وہ سب باتیں پوری ہوجائیں جو ابتدا سے رسول کریم نے اس مشابہت کے بارہ میں فرمائی تھیں۔ ہاں علماء نے مقبولوں کو قبول بھی کیا اور بڑی ارادت بھی ظاہر کی یہاں تک کہ ان کی جماعت میں بھی داخل ہوگئے مگر اس وقت کہ جب وہ اس دنیا ناپائیدار سے گذر گئے اور جب کہ کروڑہا بندگان خدا پر ان کی قبولیت ظاہر ہوگئی۔ وللہ درالقائل۔ جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر پتھر پڑیں صنم تیرے ایسے پیار پر اور میری حالت جو ہے وہ خدا وند کریم خوب جانتا ہے اس نے مجھ پر کامل طور پر اپنی برکتیں ۱؂ البقرۃ: