کامؔ نہ لیتے تو ان الزاموں سے بری ٹھہرتے جو عند اللہ ایک تکفیر کے شتاب باز پر عائد ہوسکتے ہیں۔ مگر افسوس کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ جیسے ایک بھیڑ دوسری بھیڑ کے پیچھے چلی جاتی ہے اور جو کچھ وہ کھانے لگتی ہے اسی پر یہ بھی دانت مارتی ہے۔ یہی طریق اس تکفیر میں ہمارے بعض علماء نے بھی اختیار کر لیا۔ فَمَا اَشْکُوْا اِلَّا اِلَی اللّٰہِ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ ایک مسلمان مؤحد اہل قبلہ کو کافر کہہ دینا نہایت نازک امر ہے بالخصوص جب کہ وہ مسلمان بارہا اپنی تحریرات و تقریرات میں ظاہر کرے کہ میں مسلمان ہوں اور اللہ اور رسول اور اللہ جلّ شانہٗ کے ملائک اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور بعث بعد الموت پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ اللہجلّ شانہٗ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم میں ظاہر فرمایا ہے۔ اور نہ صرف یہی بلکہ ان تمام احکام صوم و صلوٰۃ کا پابند بھی ہوں جو اللہ اور رسول صلعم نے بیان فرمائے ہیں تو ایسے مسلمان کو کافر قرار دینا اور اس کا نام اکفر اور دجّال رکھنا کیا یہ ان لوگوں کا کام ہے جن کا شعار تقویٰ اور خدا ترسی سیرت اور نیک ظنی عادت ہو۔ اگرچہ جیسا کہ میں ابھی بیان کرچکا ہوں یہ بات تو سچ ہے کہ قدیم سے علماء کا یہی حال رہا ہے کہ مشائخ اور اکابر اوراَئمہ وقت کی کتابوں کے جب بعض بعض حقائق اور معارف اور دقائق اور نکات عالیہ ان کو سمجھ نہیں آئے اور ان کے زعم میں وہ خلاف کتاب اللہ اور آثار نبویہ پائے گئے تو بعض نے علماء میں سے ان اکابر اوراَئمہ کو دائرہ اسلام سے خارج کیا اور بعض نے نرمی کر کے کافر تو نہ کہا لیکن اہلسنت و الجماعت سے باہر کردیا۔ پھر جب وہ زمانہ گذر گیا اور دوسرے قرن کے علماء پیدا ہوئے تو خدا تعالیٰ نے ان پچھلے علماء کے سینوں اور دلوں کو کھول دیا اور ان کو وہ باریک باتیں سمجھا دیں جو پہلوں نے نہیں سمجھی تھیں۔ تب انہوں نے ان