نازؔ ل کی ہیں۔ اور اتباع نبوی میں ایک گرم جوش فطرت بخش کر مجھے بھیجا ہے کہ تا حقیقی متابعت کی راہیں لوگوں کو سکھلاؤں اور ان کو اس علمی و عملی ظلمت سے باہر نکالوں جو بوجہ کم توجّہی ان پر محیط ہورہی ہے۔ میں اس بات کا دعویٰ نہیں کرتا کہ میری روح میں کچھ زیادہ سرمایہ علوم کسبیہ ہے بلکہ میں اپنی ہیچمدانی اور کم لیاقتی کا سب سے زیادہ اور سب سے پہلے اقرار کرتا ہوں لیکن ساتھ اس کے میں اس اقرار کو بھی مخفی نہیں رکھ سکتا کہ میرے جیسے ہیچ اور ذلیل اور اُمی کو خود خدا وند کریم نے اپنے کنار تربیت میں لے لیا اور ان سچی حقیقتوں اور کامل معارف سے مجھے آگاہ کردیا کہ اگر میں تمام غور و فکر کرنے والوں سے ہمیشہ زیادہ غور و فکر کرتا رہتا اور بااینہمہ ایک لمبی عمر بھی پاتا تب بھی ان حقائق اور معارف تک ہرگز پہنچ نہ سکتا۔ میں اس مولیٰ کریم کا اس وجہ سے بھی شکر کرتا ہوں کہ اس نے ایمانی جوش اسلام کی اشاعت میں مجھ کو اس قدر بخشا ہے کہ اگر اس راہ میں مجھے اپنی جان بھی فدا کرنی پڑے تو میرے پر یہ کام بفضلہ تعالیٰ کچھ بھاری نہیں۔ اگرچہ میں اس دنیا کے لوگوں سے تمام امیدیں قطع کرچکا ہوں مگر خدا تعالیٰ پر میری امیدیں نہایت قوی ہیں سو میں جانتا ہوں کہ اگرچہ میں اکیلا ہوں مگر پھر بھی میں اکیلا نہیں وہ مولیٰ کریم میرے ساتھ ہے اور کوئی اس سے بڑھ کر مجھ سے قریب تر نہیں اسی کے فضل سے مجھ کو یہ عاشقانہ روح ملی ہے کہ دکھ اٹھا کر بھی اس کے دین کیلئے خدمت بجا لاؤں اور اسلامی مہمّات کو بشوق و صدق تمام تر انجام دوں۔ اس کام پر اس نے آپ مجھے مامور کیا ہے اب کسی کے کہنے سے میں رک نہیں سکتا اور نہ نعوذ باللہ اس کے الہامی احکام کو بنظر استخفاف دیکھ سکتا ہوں بلکہ ان مقدس حکموں کی نہایت تکریم کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میری ساری زندگی اسی خدمت میں صرف ہو اور درحقیقت خوش اور مبارک زندگی وہی زندگی ہے جو الٰہی دین کی