فرقہؔ کو دین سے خارج کر رہا ہے لیکن اگر افسوس ہے تو صرف اس قدر کہ ایسے فتوے صرف اجتہادی غلطی کی ہی وجہ سے قابل الزام نہیں بلکہ بات بات میں خلاف امانت اور تقویٰ عمل میں آتا ہے اور نفسانی حسدوں کو درپردہ مدِّنظر رکھ کر دینی مسائل کے پیرایہ میں اس کا اظہار ہوتا ہے۔ کیا تعجب کا مقام نہیں کہ ایسے نازک مسئلہ میں کافر قرار دینے میں اس قدر ُ منہ زوری دکھلائی جائے کہ ایک شخص بار بار خود اپنے اسلام کا اقرار کرتا ہے اور ان تہمتوں سے اپنی بریت ظاہر کررہا ہے جو موجب کفر ٹھہرائی گئی ہیں مگر پھر بھی اس کو کافر ٹھہرایا جاتا ہے اور لوگوں کو تلقین کی جاتی ہے کہ باوجود اقرار کلمہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ اور باوجود توحید اور ماننے عقائد ضروریہ اسلام اور پابندی صوم و صلوٰۃ اور اہل قبلہ ہونے کے پھر بھی کافر ہے۔ اور دیگر مشرکین اور کفار کی طرح ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور کبھی اس سے باہر نہیں ہوگا۔ ایکہ دجّالم بچشمت نیز ضال چوں نترسی از خدائے ذوالجلال مومنے را نام کافر مے نہی کافرم گر مومنی باایں خیال اور عموماً تمام علمائے مکفّرین پر یہ افسوس ہے کہ انہوں نے بلاتفتیش و تحقیق بٹالوی صاحب کے کفرنامہ پر مہریں لگادیں اور اول سے آخر تک میری کتابیں نہ دیکھیں اور بذریعہ خط و کتابت مجھ سے کچھ دریافت نہ کیا۔ اگر وہ نیک نیتی سے مہریں لگاتے تو ان کا نور قلب ضرور ان کو اس بات کی طرف مضطر کرتا کہ پہلے مجھ سے دریافت کرتے اور میرے الفاظ کے حلّ معانی بھی مجھ سے ہی چاہتے۔ پھر اگر بعد تحقیق وہ کلمات درحقیقت کفر کے کلمات ہی ثابت ہوتے تو ایک بھائی کی نسبت افسوس ناک دل کے ساتھ کفر کی شہادت لکھ دیتے اگر وہ ایسا کرتے اور عجلت سے