ایکؔ شیخ صاحب محمد حسین نام ہیں جو بٹالہ ضلع گوداسپور میں رہتے ہیں اور جیسے اس زمانہ کے اکثر ملا تکفیر میں مستعجل ہیں اور قبل اس کے جو کسی قول کی تہہ تک پہنچیں اس کے قائل کو کافر ٹھہرا دیتے ہیں یہ عادت شیخ صاحب موصوف میں اوروں کی نسبت بہت کچھ بڑھی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اور اب تک جو ہم پر ثابت ہوا ہے وہ یہی ہے کہ شیخ صاحب کی فطرت کو تدبّر اور غور اور حسن ظن کا حصّہ قسّام ازل سے بہت ہی کم ملا ہے۔ اسی وجہ سے پہلے سب استفتاء کا کاغذ ہاتھ میں لے کر ہریک طرف یہی صاحب دوڑے۔ چنانچہ سب سے پہلے کافر اور مرتد ٹھہرانے میں میاں نذیر حسین صاحب دہلوی نے قلم اٹھائی اور بٹالوی صاحب کے استفتاء کو اپنی کفر کی شہادت سے مُزیّن کیا اور میاں نذیر حسین نے جو اس عاجز کو بلاتوقّف و تأمّل کافر ٹھہرا دیا۔ باوجود اس کے جو میں پہلے اس سے اُن کی طرف صاف تحریر کرچکا تھا کہ میں کسی عقیدہ متفق علیہا اسلام سے منحرف نہیں ہوں۔ اس کی بہت سی وجوہ میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میاں صاحب موصوف اب ارذلِ عمر میں ہیں۔ اور بجز زیادت غضب اور طیش اور غصّہ کے اور کوئی عمدہ قوت غور اور خوض کی ان میں باقی نہیں رہی۔ بلکہ اگر میں غلطی نہیں کرتا تو میری رائے میں اب بباعث پیر فرتوت ہوجانے کے ان کے حواس بھی کسی قدر قریب الاختلال ہیں ماسواء اس کے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابتدا سے ہی ایک سطحی خیالات کے آدمی ہیں اور ان کی فطرت ہی کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ حقائق عالیہ اور معارف دقیقہ سے ان کی طبعیت کو کچھ مناسبت نہیں غرض بانی استفتاء بطالوی صاحب اور اوّل المکفّرین میاں نذیر حسین صاحب ہیں اور باقی سب ان کے َ پیرو ہیں۔ جو اکثر بٹالوی صاحب کی دل جوئی اور دہلوی صاحب کے حق استادی کی رعایت سے ان کے قدم پر قدم رکھتے گئے۔ یوں تو ان علماء کا کسی کو کافر ٹھہرانا کوئی نئی بات نہیں یہ عادت تو اس گروہ میں خاص کر اس زمانہ میں بہت ترقی کر گئی ہے اور ایک فرقہ دوسرے