کرؔ ے۔ تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔
قولہ(اس صورت میں قادیان پہنچ سکتا ہوں) کہ مسلمانوں پر آپ کا جھوٹ اور فریب کھولوں لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ آپ میری جان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
اقول اب آپ کسی حیلہ و بہانہ سے گریز نہیں کر سکتے۔ اب تو دس لعنتیں آپ کی خدمت میں نذر کر دی ہیں اور اللہ جلّ شانہٗ کی قسم بھی دی ہے کہ آپ آسمانی طریق سے میرے ساتھ صدق اور کذب کا فیصلہ کرلیں۔ اگر آپ مجھ کو جھوٹا سمجھنے میں سچے ہیں تو میری اس بات کو سنتے ہی مقابلہ کیلئے کھڑے ہو جائیں گے ورنہ ان تمام لعنتوں کو ہضم کر جائیں گے اور کچے اور بیہودہ عذرات سے ٹال دیں گے اور میں آپ کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا۔ ایک ہی ہے جو آپ کو در حالت نہ باز آنے کے ہلاک کرے گا اور اپنے دین کو آپ کے اس فتنہ سے نجات دے گا۔ اور آپ کے قادیان آنے کی کچھ ضرورت نہیں اگر آپ اللہ اور رسول ؐکے نشان کے موافق آزمائش کیلئے مستعد ہوں تو میں خود بٹالہ اور امرتسر اور لاہور میں آ سکتا ہوں۔
تاسیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد۔
اب ہم ذیل میں شیخ بٹالوی صاحب کا جواب درج کرتے ہیں۔
اور وہ یہ ہے :۔
بٹالہ ضلع گورداسپورہ )یکم جنوری ۱۸۹۳ ء( نمبر اوّل
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
مرزا غلام احمد صاحب کادیانی خدا آپ کو ہدایت کرے اور راہ راست پر لاوے۔ سلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔ آپ کا خط ۳۱ ؍دسمبر ۱۸۹۲ ء میں نے تعجب سے پڑھا۔ میں آپ کی ان