نہ دؔ ین کی۔ آپ کا بڑا دوست وہ ہوگا جو اس کوشش میں لگا رہے جو آپ کی جہالتیں اور نخوتیں آپ پر ثابت کرے میں نہیں جانتا کہ آپ کو کس بات پر ناز ہے۔ شرمناک فطرت کے ساتھ اور اس موٹی سمجھ اور سطحی خیال پر یہ تکبر اور یہ ناز نعوذ باللّٰہ من ھذہ الجہالۃ والحمق و ترک الحیاء والسخافۃ والضلالۃ ۔ اور آپ کا یہ خیال کہ میں نے اب فساد کیلئے خط بھیجا ہے تا بٹالہ کے مسلمانوں میں پھوٹ پڑے۔ عزیز من یہ آپ کے فطرتی توہمات ہیں۔ میں نے پھوٹ کیلئے نہیں بلکہ آپ کی حالت زار پر رحم کر کے خط بھیجا تھا تا آپ تحت الثریٰ میں نہ گر جائیں اور قبل از موت حق کو سمجھ لیں مسلمانوں میں تفرقہ اور فتنہ ڈالنا تو آپ ہی کا شیوہ ہے یہی تو آپ کا مذہب اور طریق ہے جس کی وجہ سے آپ نے ایک مسلمان کو کافر اور بے ایمان اور دجال قرار دیا اور علماء کو دھوکے دیکر تکفیر کے فتوے لکھوائے اور اپنے استاد نذیر حسین پر موت کے دنوں کے قریب یہ احسان کیا کہ اسکے منہ سے کلمہ تکفیر کہلوایا اور اسکی پیرانہ سالی کے تقویٰ پر خاک ڈالی۔ آفرین باد برین ہمت مردانہ تو۔ نذیر حسین تو ارذل عمر میں مبتلا اور بچوں کی طرح ہوش وحواس سے فارغ تھا۔ یہ آپ ہی نے شاگردی کا حق ادا کیا کہ اسکے اخیر وقت اور لب بام ہونے کی حالت میں ایسی مکروہ سیاہی اسکے منہ پر مل دی کہ اب غالباً وہ گور میں ہی اس سیاہی کو لیجائے گا۔ خدائے تعالیٰ کی درگاہ خالہ جی کا گھر نہیں ہے جو شخص مسلمان کو کافر کہتا ہے اس کو وہی نتائج بھگتنے پڑیں گے جن کا ناحق کے مکفرین کیلئے اس رسول کریمؐنے وعدہ دے رکھا ہے جو ایسا عدل دوست تھا جس نے ایک چور کی سفارش کے وقت سخت ناراض ہوکر فرمایا تھا کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر فاطمہ بنت محمدؐ چوری