المُقَدّؔ مَہ
تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ اس عاجز نے خدا تعالیٰ سے توفیق پا کر تین رسالے تائید اسلام میں تالیف کئے تھے جن میں سے پہلے کا نام فتح اسلام اور دوسرے کا نام توضیح مرام اور تیسرے کا نام ازالہ اوہام ہے ان رسالوں میں حسب ایماء اور الہام اور القاء ربّانی اس مرتبہ مثیلِ مسیح ہونے کا ذکر بھی تھا جو اس عاجز کو عطا کیا گیا۔ ایسا ہی اُن دقائق و حقائق و معارف عالیہ کا بیان تھا جو اسلام اور قرآن کریم کی اعلیٰ حقیقتیں اور مسلمانوں کیلئے بمقابلہ مخالفین جائے فخر تھیں اور نیز اسلامی توحید کے انتہائی مرتبہ کی خوبصورتی اور صفائی ان حقائق سے ظاہر ہوتی تھی اور نیز وہ سب معارف ان بیرونی حملوں کے کافی و شافی جوابات تھے جو موجودہ زمانہ کے لوگ سراسر اپنے تعصب اور کوتاہ نظری سے تعلیم اسلام پر کرتے ہیں اور یہ سب کچھ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے لیا گیا تھا اور گزشتہ اکابر کی ان سچائیوں پر شہادتیں بھی موجود تھیں اور امید تھی کہ عقل مند لوگ ان کتابوں کو شکر گذاری کی نظر سے دیکھیں گے اور خدا تعالیٰ کی جناب میں سجدات شکر بجا لاویں گے کہ عین ضرورت کے وقت میں اس نے یہ روحانی نعمتیں عطا فرمائیں لیکن افسوس کہ بعض علماء کی فتنہ اندازی کی وجہ سے معاملہ برعکس ہوا اور بجائے اس کے کہ لوگ خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ایک شور اور غوغا سخت ناشکری کا ایسا برپا کردیا گیا کہ وہ تمام حقائق اور لطائف اور نکات اور معارف الہٰیہ کلمات کفر قرار دیئے گئے۔ اور اسی بنا پر اس عاجز کا نام بھی کافر اور ملحد اور زندیق اور دجّال رکھا گیا۔ بلکہ دنیا کے تمام کافروں اور دجّالوں سے بدتر قرار دیا گیا۔ اس فتنہ اندازی کے اصل بانی مبانی