جیساؔ کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں یہی میرا دعویٰ ہے کہ میں بدل و جان اس پیارے نبی پر صلی اللہ علیہ وسلم اور اس پیاری کتاب قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہوں۔ اب اس نشانی سے آزمایا جائے گا کہ اپنے دعویٰ میں سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے اگر میں اس علامت کے رو سے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے قرار دی ہے مغلوب رہا تو پھر آپ سچے رہیں گے اور میں بقول آپ کے کافر، دجال، بے ایمان، شیطان، اور کذاب اور مفتری ٹھہروں گا اور اس صورت میں آپ کے وہ تمام ظنون فاسدہ درست اور برحق ہوں گے کہ گویا میں نے براہین احمدیہ میں فریب کیا اور لوگوں کا روپیہ کھایا اور دعا کی قبولیت کے وعدہ پر لوگوں کا مال خوردو برد کیا اور حرام خوری میں زندگی بسر کی لیکن اگر خدا تعالیٰ کی اس عنایت نے جو مومنوں اور صادقوں اور راست بازوں کے شامل حال ہوتی ہے مجھ کو سچا کردیا تو پھر آپ فرماویں کہ یہ سب نام اس وقت آپ کی مولویانہ شان کے سزا وار ٹھہریں گے یا اس وقت بھی کوئی کنارہ کشی کا راہ آپ کیلئے باقی رہے گا۔ آپ نے مجھ کو بہت دکھ دیا اور ستایا۔ میں صبر کرتا گیا مگر آپ نے ذرہ اس ذات قدیر کا خوف نہ کیا جو آپ کی تہ سے واقف ہے۔ اس نے مجھے بطور پیشگوئی آپ کے حق میں اور پھر آپ کے ہم خیال لوگوں کے حق میں خبر دی کہ اِنّی مھین من اراد اھانتک یعنی میں اس کو خوار کروں گا جو تیرے خوار کرنے کی فکر میں ہے۔
سو یقیناً سمجھو کہ اب وہ وقت نزدیک ہے جو خدا تعالیٰ ان تمام بہتانات میں آپ کا دروغ گو ہونا ثابت کردے گا اور جو بہتان تراش اور مفتری لوگوں کو ذلتیں اور ندامتیں پیش آتی ہیں ان تمام ذلتوں کی مار آپ پر ڈالے گا۔ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں پس اگر آپ اس قول میں سچے ہیں تو آزمائش کیلئے میدان