کافرؔ ہوں اور دوسرے یہ کہ میرا شیوہ جھوٹ بولنا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اپنی رویا میں صادق تر وہی ہوتا ہے جو اپنی باتوں میں صادق تر ہوتا ہے۔ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صادق کی یہ نشانی ٹھہرائی ہے کہ اس کی خوابوں پر سچ کا غلبہ ہوتا ہے اور ابھی آپ دعویٰ کرچکے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں۔ پس اگر آپ نے یہ بات نفاق سے نہیں کہی اور آپ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قول میں سچے ہیں تو آؤ ہم اور تم اس طریق سے ایک دوسرے کو آزما لیں کہ بموجب اس محک کے کون صادق ثابت ہوتا ہے اور کس کی سرشت میں جھوٹ ہے۔ اور ایسا ہی اللہ جلّ شانہٗ قرآن کریم میں فرماتا ہے 3۔۱؂ یعنی یہ مومنوں کا ایک خاصہ ہے کہ بہ نسبت دوسروں کے ان کی خوابیں سچی نکلتی ہیں۔ اور آپ ابھی دعویٰ کرچکے ہیں کہ میں قرآن پر بھی ایمان لاتا ہوں۔ بہت خوب آؤ قرآن کریم کے رو سے بھی آزما لیں کہ مومن ہونے کی نشانی کس میں ہے۔ یہ دونوں آزمائشیں یوں ہوسکتی ہیں کہ بٹالہ یا لاہور یا امرتسر میں ایک مجلس مقرر کر کے فریقین کے شواہد رویا ان میں حاضر ہوجائیں اور پھر جو شخص ہم دونوں میں سے یقینی اور قطعی ثبوتوں کے ذریعہ سے اپنی خوابوں میں اَصْدَق ثابت ہو اس کے مخالف کا نام کذاب اور دجال اور کافر اور اَکْفَر اور ملعون یا جو نام تجویز ہوں اسی وقت اس کو یہ تمغہ پہنایا جائے اور اگر آپ گزشتہ کے ثبوت سے عاجز ہوں تو میں قبول کرتا ہوں بلکہ چھ ماہ تک آپ کو رخصت دیتا ہوں کہ آپ چند اخباروں میں اپنی ایسی خوابیں درج کرادیں جو امور غیبیہ پر مشتمل ہوں اور میں نہ صرف اسی پر کفایت کروں گا کہ گذشتہ کا آپ کو ثبوت دوں بلکہ آپ کے مقابل پر بھی انشاء اللہ القدیر اپنی خوابیں درج کراؤں گا۔ اور