میںؔ آویں تا خدا تعالیٰ ہمارا اور تمہارا خود فیصلہ کرے اور جو کاذب اور دجّال ہے رو سیاہ ہوجائے اور میرے دل سے اس وقت حق کی تائید کیلئے ایک بات نکلتی ہے اور میں اس کو روک نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ میرے نفس سے نہیں بلکہ القاء ربّی ہے جو بڑے زور سے جوش مار رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کہ آپ نے مجھے کافر ٹھہرایا اور جھوٹ بولنا میری سرشت کا خاصہ قرار دیا تو اب آپ کو اللہ جلّ شانہٗ کی قسم ہے کہ حسب طریق مذکورہ بالا میرے مقابلہ پر فی الفور آجاؤ تا دیکھا جائے کہ قرآن کریم اور فرمودہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رو سے کون کاذب اور دجّال اور کافر ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر اس تبلیغ کے بعد ہم دونوں میں سے کوئی شخص متخلف رہا اور باوجود اشد غلو اور تکفیر اور تکذیب اور تفسیق کے میدان میں نہ آیا اور شغال کی طرح دم دبا کر بھاگ گیا تو وہ مندرجہ ذیل انعام کا مستحق ہوگا:۔
(۱)
***
(۲)
***
(۳)
***
(۴)
***
(۵)
***
(۶)
***
(۷)
***
(۸)
***
(۹)
***
(۱۰)
***
تِلک عشرۃٌ کَامِلۃ