کہؔ آپ کو جھوٹا جانوں۔
اقول شیخ صاحب اگر آپ قرآن کو سچا جانتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی صادق مانتے تو مجھ کو کافر نہ ٹھہراتے۔ کیا قرآن کریم اور حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ماننے کے یہی معنی ہیں کہ جو شخص اللہ اور رسول پر ایمان لاتا ہے اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہے اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہے اور اسلام میں نجات محدود سمجھتا اور بدل و جان اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں فدا ہے اس کو آپ کافر بلکہ اکفر ٹھہراتے ہیں اور دائمی جہنم اس کیلئے تجویز کرتے ہیں۔ اس پر *** بھیجتے ہیں۔ اس کو دجّال کہتے ہیں اور اس کو قتل کرنا اور اس کے مال کو بطور سرقہ لینا سب جائز قرار دیتے ہیں۔ رہے وہ کلمات اس عاجز کے جن کو آپ کلمات کفر ٹھہراتے ہیں ان کا جواب اس رسالہ میں موجود ہے۔ ہریک منصف خود پڑھ لے گا۔ اور آپ کی علمیت اور آپ کی دیانت اور آپ کا فہم قرآن اور فہم حدیث اس سے بخوبی ظاہر ہوگیا ہے علیحدہ لکھنے کی حاجت نہیں۔
قولہ۔ عقائد باطلہ مخالفہ دین اسلام وادیان سابقہ کے علاوہ جھوٹ بولنا اور دھوکا دینا آپ کا ایسا وصف لازم بن گیا ہے کہ گویا وہ آپ کی سرشت کا ایک جزو ہے۔
اقول شیخ صاحب جو شخص متقی اور حلال زادہ ہو۔ اوّل تو وہ جرأت کر کے اپنے بھائی پر بے تحقیق کامل کسی فسق اور کفر کا الزام نہیں لگاتا اور اگر لگاوے تو پھر ایسا کامل ثبوت پیش کرتا ہے کہ گویا دیکھنے والوں کیلئے دن چڑھا دیتا ہے۔ پس اگر آپ ان دونوں صفتوں مذکورہ بالا سے متصف ہیں تو آپ کو اس خدا وند قادر ذوالجلال کی قسم ہے جس کی قسم دینے پر حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی توجہ کے ساتھ جواب دیتے تھے کہ آپ حسب خیال اپنے یہ دونوں قسم کا خبث اس عاجز میں ثابت کر کے دکھلاویں یعنی اول یہ کہ میں مخالف دین اسلام اور