کرتا ؔ ہوں۔ اور آخر دعا پر ختم کرتا ہوں۔ ربّنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق و انت خیرالفاتحین۔ آمین
الراقم خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپورہ ۳۱ ؍دسمبر ۱۸۹۲ ء
گواہانِ حاشیہ
(۱) خدا بخش اتالیق نواب صاحب (۲) عبدالکریم سیالکوٹی (۳) قاضی ضیاء الدین ساکن کوٹ قاضی ضلع گوجرانوالہ (۴) مولوی نور الدین (۵) محمد احسن امروہی (۶) شادیخان ملازم سر راجہ امر سنگھ صاحب بہادر (۷) ظفر احمد کپورتھلی (۸) عبد اللہ سنوری (۹) عبدالعزیز دہلوی (۰) علی گوہر خان جالندھری (۱) فضل الدین حکیم بھیروی (۱۲) حافظ محمد صاحب پشاوری (۱۳) حکیم محمد اشرف علی ہاشمی خطیب بٹالہ (۱۴) عبدالرحمن برادر زادہ مولوی نور الدین صاحب (۱۵) محمد اکبر ساکن بٹالہ (۱۶) قطب الدین ساکن بدوملی۔
اس عاجز کے خط مندرجہ بالا کے جواب میں جو شیخ بٹالوی صاحب کا خط آیا وہ ذیل میں معہ جواب الجواب درج کیا جاتا ہے لیکن چونکہ وہ جواب الجواب جو اس طرف سے بٹالوی صاحب کی خدمت میں روانہ کیا گیا ہے اس میں ان کی اُن تمام ہذیانات و بہتانات کا جواب نہیں ہے جو ان کے خط میں درج ہیں اور ممکن ہے کہ ان کا خط پڑھنے والے ان افتراؤں سے بے خبر ہوں جو اس خط میں دھوکہ دینے کی غرض سے درج ہیں اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ اس خط کی تحریر سے پہلے شیخ صاحب کے بعض افتراؤں اور لافوں اور بہتانوں کا جواب دیں سو بطور قولہ‘ و اقول ذیل میں جواب درج کیا جاتا ہے۔*
قولہ۔ میں قرآن اور پہلی کتابوں کو اور دین اسلام اور پہلے دینوں کو اور نبی آخر الزمان اور پہلے نبیوں کو سچا جانتا اور مانتا ہوں اور اس کا لازمہ اور شرط ہے
* جو خط بٹالوی صاحب کی خدمت میں روانہ کیاگیا تھا اس میں بخوف طول کلام اُن کی بیہودہ باتوں سے اعراض کیا گیا تھا۔ اب جووہ خود اس خط کو شائع کرنے کیلئے مستعد ہوگئے تو جواب بھی شائع کرنا پڑا۔منہ