سےؔ یہ ھبہ نامہ لکھا گیا۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضا مندی کے بیکار تھا اس لئے مکتوب الیہ نے بتمامتر عجزو انکسار ہماری طرف رجوع کیا۔ تاہم اس ہبہ پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کردیں اور قریب تھا کہ دستخط کردیتے لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہیئے- سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا تھا جس کو خدا تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کردیا۔ اس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کیلئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۸ ؁ء میں درج ہیں لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہوجائے گا۔*228 اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کیلئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔ پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کیلئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کررکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔ اور بے دینوں کو مسلمان بناوے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلا دے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارے میں یہ ہے۔ کذّبوا باٰیاتنا و کانوا بھا یستھزء ون فسیکفیکہم اللّٰہ و یردّ ھا الیک لا تبدیل لکلمات اللّٰہ * تین سال تک فوت ہونا روزِ نکاح کے حساب سے ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ کوئی واقعہ اورحادثہ اس سے پہلے نہ آوے بلکہ بعض مکاشفات کے رو سے مکتوب الیہ کا زمانہ حوادث جن کا انجام معلوم نہیں نزدیک پایا جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔ منہ 228 والد اس عورت کا نکاح سے چوتھے مہینے مطابق پیشگوئی فوت ہو گیا یعنے نکاح۷؍ اپریل ۱۸۹۲ ؁ء کو ہوا۔ اور وہ ۳۰ ؍ستمبر ۱۸۹۲ ؁ء کو بمقام ہوشیار پورر گذرگیا۔ منہ