انّ ؔ ربک فعال لما یرید۔ انت معی و انا معک۔ عسٰی ان یبعثک ربک مقامًا محمودًا یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کررہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کیلئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہوجاتا ہے۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی یعنی گو اول میں احمق اور نادان لوگ بدباطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں لیکن آخر خدا تعالیٰ کی مدد کو دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی۔ اس جگہ ایک اور اعتراض نور افشاں کا رفع دفع کرنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر یہ الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا اور اس پر اعتماد کلی تھا تو پھر پوشیدہ کیوں رکھا اور کیوں اپنے خط میں پوشیدہ رکھنے کیلئے تاکید کی* اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک خانگی معاملہ تھا اور جن کیلئے یہ نشان تھا ان کو تو پہنچا دیا گیا تھا اور یقین تھا کہ والد اس دختر کا ایسی اشاعت سے رنجیدہ ہوگا۔ اس لئے ہم نے دل شکنی اور رنج دہی سے گریز کی بلکہ یہ بھی نہ چاہا کہ در حالت رد و انکار وہ بھی اس امر کو شائع کریں۔ اور گو ہم شائع کرنے کیلئے مامور تھے مگر ہم نے مصلحتاً دوسرے وقت کی انتظار کی۔ یہاں تک کہ اس لڑکی کے ماموں مرزا نظام الدین نے جو مرزا امام الدین کا حقیقی بھائی ہے شدت غیض و غضب میں آکر اس مضمون کو آپ ہی یہ الہام جو شرطی طور پر مکتوب الیہ کی موت فوت پر دلالت کرتا تھا ہم کو بالطبع اس کی اشاعت سے کراہت تھی بلکہ ہمارا دل یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس سے مکتوب الیہ کو مطلع کریں مگر اس کے کمال اصرار سے جو اس نے زبانی اور کئی انکساری خطوں کے بھیجنے سے ظاہر کیا۔ ہم نے سراسر سچی خیر خواہی اور نیک نیتی سے اس پر یہ امر سربستہ ظاہر کر دیا پھراس نے اور اس کے عزیز مرزا نظام الدین نے اس الہام کے مضمون کی آپ شہرت دی۔ منہ