آسماؔ نی کے طالب تھے اور طریقہ اسلام سے انحراف اور عناد رکھتے تھے اور اب بھی رکھتے ہیں۔ چنانچہ اگست ۱۸۸۵ ؁ء میں جو چشمہ نور امرتسر میں ان کی طرف سے اشتہار چھپا تھا۔ یہ درخواست ان کی اس اشتہار میں بھی مندرج ہے ان کو نہ محض مجھ سے بلکہ خدا اور رسول سے بھی دشمنی ہے۔ اور والد اس دختر کا بباعث شدت تعلق قرابت ان لوگوں کی رضا جوئی میں محو اور ان کے نقش قدم پر دل و جان سے فدا اور اپنے اختیارات سے قاصر و عاجز بلکہ انہیں کا فرمانبردار ہورہا ہے اور اپنی لڑکیاں انہیں کی لڑکیاں خیال کرتا ہے اور وہ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں اور ہر باب میں اس کے مدار المہام اور بطور نفس ناطقہ کے اس کے لئے ہو رہے ہیں تبھی تو نقارہ بجا کر اس کی لڑکی کے بارہ میں آپ ہی شہرت دے دی یہاں تک کہ عیسائیوں کے اخباروں کو اس قصہ سے بھر دیا۔ آفرین برین عقل و دانش۔ ماموں ہونے کا خوب ہی حق ادا کیا۔ ماموں ہوں تو ایسے ہی ہوں۔ غرض یہ لوگ جو مجھ کو میرے دعویٰ الہام میں مکار اور دروغ گو خیال کرتے تھے اور اسلام اور قرآن شریف پر طرح طرح کے اعتراض کرتے تھے اور مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے تو اس وجہ سے کئی دفعہ ان کیلئے دعا بھی کی گئی تھی۔ سو وہ دعا قبول ہو کر خدا تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ والد اس دختر کا ایک اپنے ضروری کام کیلئے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ نام بردہ کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین نام کو بیاہی گئی تھی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا ہے اور مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین ملکیت جس کا ہمیں حق پہنچتا ہے نامبردہ کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرادی گئی تھی۔ اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپورہ میں جاری ہے نامبردہ یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار ہزار یا پانچ ہزار روپیہ کی قیمت کی ہے اپنے بیٹے محمدؐ بیگ کے نام بطور ھبہ منتقل کرادیں چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف