بِسْمِ ؔ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہ‘ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ (اللّٰہ اکبر ضربت الذلۃ علٰی کل مخالفٍ) اشتھار بنام جملہ پادری صاحبان و ہندو صاحبان و آریہ صاحبان و اور فلسفہ کے خشک اور بے سود ورقوں کو جلاؤ کہ ایمان سے تم کو برکتیں ملیں گی۔ ایمان کا ایک ذرہ فلسفہ کے ہزار دفتر سے بہتر ہے اور ایمان سے صرف آخری نجات نہیں بلکہ ایمان دنیا کے عذابوں اور لعنتوں سے بھی چھڑا دیتا ہے اور روح کے تحلیل کرنے والے غموں سے ہم ایمان ہی کی برکت سے نجات پاتے ہیں۔ وہ چیز ایمان ہی ہے جس سے مومن کامل سخت گھبراہٹ اور قلق اور کرب اور غموں کے طوفان کے وقت اور اس وقت کہ جب ناکامی کے چاروں طرف سے آثار ظاہر ہوجاتے ہیں اور اسباب عادیہ کے تمام دروازے مقفل اور مسدود نظر آتے ہیں مطمئن اور خوش ہوتا ہے ایمان کامل سے سارے استبعاد جاتے رہتے ہیں۔ اور ایمان کو کوئی چیز ایسا نقصان نہیں پہنچاتی جیسا کہ استبعاد۔ اور کوئی ایسی دولت نہیں جیسا کہ ایمان۔ دنیا میں ہریک ماتم زدہ ہے مگر ایماندار دنیا میں ہریک سوزش اور حرقت اور جلن