کیوؔ نکر ظاہری خلیفہ ہوسکتا ہے اور یہ کہنا کہ وہ مہدی سے بیعت کرے گا اور اس کا تابع ہوگا اور نوکروں کی طرح اس کے کہنے سے تلوار اٹھائے گا عجب بے ہودہ باتیں ہیں نہیں حضرات خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو ہدایت دے مسیح موعود کی روحانی خلافت ہے دنیا کی بادشاہتوں سے اس کو کچھ تعلق نہیں اس کو آسمانی بادشاہت دی گئی ہے اور آج کل یہ زمانہ بھی نہیں کہ تلوار سے لوگ سچا ایمان لاسکیں۔ آج کل تو پہلی تلوار پر ہی نادان لوگ اعتراض کررہے ہیں چہ جائیکہ نئے سرے ان کو تلواروں سے قتل کیا جائے ہاں روحانی تلوار کی سخت حاجت ہے سو وہ چلے گی اور کوئی اس کو روک نہیں سکتا اب ہم اس مقدمہ کو ختم کرتے ہیں لیکن ذیل میں ایک روحانی تلوار مخالفوں پر چلا دیتے ہیں اور وہ یہ ہے۔ لئے اور ہر ایک دکھ سے راحت پانے کیلئے خدا تعالیٰ کے محتاج ہیں اور وہ نجات صرف ایمان سے ہی ملتی ہے کیا دنیا کا عذاب اور کیا آخرت کا دونوں کا علاج ایمان ہے۔ جب ہم ایمان کی قوت سے ایک مشکل کا حل ہوجانا غیر ممکن نہیں دیکھتے تو وہ مشکل ہمارے لئے حل کی جاتی ہے۔ ہم ایمان ہی کی قوت سے خلاف قیاس اور بعید از عقل مقاصد کو بھی پا لیتے ہیں۔ ایمان ہی کی قوت سے کرامات ظاہر ہوتی ہیں اور خوارق ظہور میں آتے ہیں۔ اور انہونی باتیں ہوجاتی ہیں۔ پس ایمان ہی سے پتہ لگتا ہے کہ خدا ہے خدا فلسفیوں سے پوشیدہ رہا اور حکیموں کو اس کا کچھ پتہ نہ لگا۔ مگر ایمان ایک عاجز دلق پوش کو خدا تعالیٰ سے ملا دیتا ہے اور اس سے باتیں کرادیتا ہے مومن اور محبوب حقیقی میں قوت ایمانی دلالہ ہے۔ یہ قوت ایک مسکین ذلیل خوار مردود خلائق کو قصر مقدس تک جو عرش اللہ ہے پہنچا دیتی ہے اور تمام پردوں کو اٹھاتی اٹھاتی دلآرام ازلی کا چہرہ دکھا دیتی ہے سو اٹھو ایمان کو ڈھونڈو