انگرؔ یز کہاں ہوں گے اور روس کہاں اور جرمن اور فرانس وغیرہ یورپ کی بادشاہتیں کہاں جائیں گی حالانکہ مسیح موعود کا عیسائی سلطنتوں کے وقت میں ظاہر ہونا ضروری ہے اور جب مسیح موعود کیلئے یہی ضروری ہے کہ دنیا میں عیسائی طاقتوں کو ہی دنیا پر غالب پاوے اور تمام مفاسد کی کنجیاں انہیں کے ہاتھ میں دیکھے انہیں کی صلیبوں کو توڑے اور انہیں کے خنزیروں کو قتل کرے اور انہیں کو اسلام میں داخل کر کے جزیہ کا قصہ تمام کرے تو پھر سوچو کہ فرضی دجال کی سلطنت باوجود عیسائی سلطنت کے کیونکر ممکن ہے مگر یہ غلط ہے کہ مسیح موعود ظاہری تلوار کے ساتھ آئے گا تعجب کہ یہ علماء یضع الحرب کے کلمہ کو کیوں نہیں سوچتے اور حدیث الائمۃ من قریش کو کیوں نہیں پڑھتے پس جب کہ ظاہری سلطنت اور خلافت اور امامت بجز قریش کے کسی کیلئے روا ہی نہیں تو پھر مسیح موعود جو قریش میں سے نہیں ہے۔ آپ کو اس ذات کی قسم کہ جس کے قبضہ میں ہریک جان ہے کہ آپ میرے اس نیاز نامہ کو لاپرواہی سے ٹال نہ دیں اور سوچ سمجھ کر جواب شائع کریں۔ اس حاشیہ کے خاتمہ پر میں محض للہ ان تمام صاحبوں کو جو سیّد صاحب کی تالیفات پر فریفتہ ہو رہے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ آیا ایمان سے نجات ملتی ہے یا فلسفہ سے۔ میں بار بار کہتا ہوں اور زور سے کہتا ہوں کہ اگر عقائد دینیہ فلسفہ کے رنگ پر اور ہندسہ اور حساب کی طرح عام طور پر بدیہی الثبوت ہوتے تو وہ ہرگز نجات کا ذریعہ نہ ٹھہر سکتے۔ بھائیو یقیناً سمجھو کہ نجات ایمان سے وابستہ ہے اور ایمان امور مخفیہ سے وابستہ ہے۔ اگر حقائق اشیاء مستور نہ ہوتے تو ایمان نہ ہوتا اور اگر ایمان نہ ہوتا تو نجات کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا۔ ایمان ہی ہے جو رضاء الٰہی کا وسیلہ اور مراتب قرب کا زینہ اور گناہوں کا زنگ دھونے کیلئے ایک چشمہ ہے اور ہمیں جو خدا تعالیٰ کی طرف حاجت ہے اس کا ثبوت ایمان ہی کے ذریعہ سے ملتا ہے کیونکہ ہم اپنی نجات کے