صلیبؔ کا زمانہ اور عیسیٰ پرستی کا زمانہ ہے جو شخص کہ سمجھ سکتا ہے چاہیئے کہ ہلاک ہونے سے پہلے سمجھ لے۔ یکسر الصلیب پر غور کرے یقتل الخنزیرکو سوچے۔یضع الجزیۃ کو نظر تدبّر سے دیکھے جو یہ سب امور اہل کتاب کے حق میں اور ان کی شان میں صادق آسکتے ہیں نہ کسی اور کے حق میں پھر جب تسلیم کیا گیا کہ اس زمانہ میں اعلیٰ طاقت عیسائی مذہب کی طاقت اور عیسائی گورنمنٹوں کی طاقت ہوگی جیسا کہ قرآن کریم بھی اسی بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے تو پھر ان طاقتوں کے ساتھ ایک فرضی اور خیالی اور وہمی دجّال کی گنجائش کہاں یہی لوگ تو ہیں جو تمام زمین پر محیط ہوگئے ہیں پھر اگر ان کے مقابل پر کوئی اور دجّال خارج ہو تو وہ باوجود ان کے کیونکر زمین پر محیط ہو ایک میان میں دو۲ تلواریں تو سما نہیں سکتیں جب ساری زمین پر دجال کی بادشاہت ہوگی تو پھر یوحناکے رنگ میں اترا تھا مسلمان اگر اس قصہ کو جو انجیل میں موجود ہے اور خود حضرت مسیح کے فیصلہ سے تصفیہ یافتہ امر ہے منظور نہ کریں تو حدیث حدّثوا عن بنی اسرائیل پر تو عمل کرنا چاہیئے اور تکذیب کے تو کسی طرح مجاز نہیں کیونکہ تکذیب سے ہر ایک مسلمان منع کیا گیا ہے اور تصدیق کیلئے اور بھی بہت سے دلائل قرآن کریم سے ملتے ہیں جن کا ہم اپنی دوسری تالیفات میں اور کچھ اس رسالہ میں بھی ذکر کرچکے ہیں۔ اب میں ان باتوں کو طول دینا نہیں چاہتا صرف اپنی اس تقریر کو اس بات پر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ تا میں اس زمانہ کے اوہام دور کروں اور ٹھوکر سے بچاؤں اور مجھے اس نے توفیق عنایت کی ہے کہ اگر آپ حق کے طالب ہوں تو میں آپ کی تسلی کروں سو اب میں خدا ئے تعالیٰ کو اس بات پر شاہد کرتا ہوں کہ میں نے آپ کو آپ کی غلطیوں کے رفع کرنے کے لئے بلایا اگر اب بھی آپ خاموش رہے تو اللہ جلّ شانہٗ کی حجت آپ پر پوری ہوگی اور آپ کے تمام گروہ کا گناہ آپ ہی کی گردن پر ہوگا حضرت