یہؔ وہ اجازت مباہلہ ہے جو اس عاجز کو دی گئی۔ لیکن ساتھ اس کے جو بطور تبشیر کے اور الہامات ہوئے ان میں سے بھی کسی قدر لکھتا ہوں اور وہ یہ ہیں۔ یوم یجیء الحق و یُکْشَف الصدق و یخسر الخاسرون۔ انت معی و انا معک و لا یعلمھا الا المسترشدون نرد الیک الکرّۃ الثانیۃ و نبدلنّک من بعد خوفک اَمنا۔ یأتی قمر الانبیاء۔ و امرک یتأَتّٰی یسر اللّٰہ وجھک و یُنِیْرُ برھانک۔ سیولد لک الولد و یُدْنٰی منک الفضل انّ نوری قریب و قالو انّٰی لک ھذا قل ھو اللّٰہ عجیب۔ و لا تیئس من روح اللّٰہ۔ انظر الی یوسف و اقبالہ۔ قد جاء وقت الفتح والفتح اقرب۔ یخرّون علی المساجد ربنا اغفرلنا اِنّا کنا خاطئین۔ لا تثریب علیکم الیوم کلمہ گو یوں اور اپنے جیسے اہل قبلہ کو کافر قرار دیں دجّال کہیں اور بے ایمان نام رکھیں اور فتویٰ لکھیں کہ ان سے ملنا جائز نہیں اور ان کا جنازہ پڑھنا روا نہیں یہ ایسے ہیں اور ویسے ہیں اور کیا کیا ہیں۔ اور اس وقت کے پیر زادے اور گوشہ نشین بھی جو فقرا اور اہل اللہ کہلاتے ہیں کانوں میں روئی دے کر بیٹھے ہوئے ہیں اسلام کو ان کی آنکھوں کے سامنے ایک معصوم بچہ کی طرح ماریں پڑرہی ہیں اور دشمن گلا گھونٹنے کو طیار ہے لیکن ان سخت دل نام کے فقیروں کو کچھ بھی پروا نہیں۔ پھر اسلام کس سے مدد چاہے اور کس کو اپنا ہمدرد سمجھے اول تو اسلام کے لئے ان تمام فرقوں سے کچھ خدمت ہوتی ہی نہیں اور اگر شاذ و نادر کسی سے ہو بھی تو وہ ریا اور ملونی سے خالی نہیں پھر اگر اسلام اس وقت غریب نہیں تو پھر کس وقت ہوگا اور اگر یہ مصیبت کے دن نہیں تو پھر اور کب آئیں گے میں خدا تعالیٰ سے یقینی اور قطعی علم پا کر کہتا ہوں کہ یہ وہی سخت بلاؤں کے دن اور وہی دجّالیّت