فنجعل لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔
یعنی خدا تعالیٰ نے ایک معطّر نظر سے تجھ کو دیکھا اور بعض لوگوں نے اپنے دلوں میں کہا کہ اے خدا کیا تو زمین پر ایک ایسے شخص کو قائم کردے گا کہ جو دنیا میں فساد پھیلاوے تو خدا تعالیٰ نے ان کو جواب دیا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے اور ان لوگوں نے کہا کہ اس شخص کی کتاب ایک ایسی کتاب ہے جو کذب اور کفر سے بھری ہوئی ہے سو ان کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم معہ اپنی عورتوں اور بیٹوں اور عزیزوں کے مباہلہ کریں پھر ان پر *** کریں جو کاذب ہیں۔
اشارہ کر کے فرماتا ہے کہ 3۔۱ یعنی ہم نے ہی اس کلام کو اتارا اور ہم ہی اس کی عزت اور اس کی عظمت اور اس کی تعلیم کو دشمنوں کے حملوں سے بچائیں گے پہلے وہ زمانے تھے کہ اسلام کی ظاہری تلوار نے بہت سی فضول بحثوں سے فراغت کررکھی تھی اور ظالم اور شریر طبع لوگوں کے لئے ان کے مناسب حال تدارک موجود تھا اور عہد نبوت بھی قریب تھا اور مسلمانوں میں تقویٰ اور طہارت اور سچی ہمدردی اسلام کی موجود تھی اب یہ سب کچھ ندارد اور اب اسلام جیسا روئے زمین میں کوئی غریب اور یتیم اور مسکین نہیں اکثر اہل مقدرت اپنی عیاشیوں میں مصروف اور ان کو اپنی دنیا کی عمارتوں کے بنانے اور اپنی لذّات کے سامان طیار کرنے یا کسی قدر ننگ و ناموس کے لئے مال خرچ کرنے سے فراغت نہیں اور مولوی لوگ اپنے نفسانی جھگڑوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور دعوت اسلام کی نہ لیاقت رکھتے ہیں نہ اس کا کچھ جوش نہ اس کی کچھ پروا اگر ان سے کچھ ہوسکتا ہے تو صرف اس قدر کہ اپنی ہی قوم اور اپنے ہی بھائیوں اور اپنے جیسے مسلمانوں اور اپنے جیسے