غفرؔ اللّٰہ لکم و ھو ارحم الراحمین۔ اردتُ ان استخلف فخلقتُ آدم۔ نجیّ الاسرار۔ انا خلقنا الانسان فی یومٍ موعود۔ یعنی اس دن حق آئے گا اور صدق کھل جائے گا اور جو لوگ خسارہ میں ہیں وہ خسارہ میں پڑیں گے۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ اور اس حقیقت کو کوئی نہیں جانتا مگر وہی جو رشد رکھتے ہیں ہم پھر تجھ کو غالب کریں گے اور خوف کے بعد امن کی حالت عطا کردیں گے۔ نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام تجھے حاصل ہوجائے گا۔ خدا تیرے منہ کو بشاش کرے گا اور تیرے برہان کو روشن کردے گا اور تجھے ایک بیٹا عطا ہوگا اور فضل تجھ سے قریب کیا جائے گا اور میرا نور نزدیک ہے۔ اور کہتے ہیں کہ یہ مراتب تجھ کو کہاں۔ ان کو کہہ کہ وہ خدا عجیب خدا ہے اس کے ایسے ہی کام ہیں جس کو چاہتا ہے اپنے مقرّ بوں میں
کا زمانہ ہے جس کے آنے کی نبی معصوم علیہ السلام نے خبر دی تھی حال کے نادان مولوی انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دجّالیت کبریٰ اور فتن عظمیٰ کا زمانہ نہیں مگر بات تو تب ہو کہ آدم سے لے کر تاایں دم ان عظیم الشان فتنوں کے جو اسلام کے جگر پر حربے ماررہے ہیں کوئی نظیر پیش کرسکیں اور چونکہ اس زمانہ سے بکلّی صلاحیت اٹھ گئی اور حقیقی تقویٰ جاتی رہی اور بعضوں کے ہاتھ میں صرف تقویٰ اور اعمال صالحہ کا پوست رہ گیا نہ مغز اور بعضوں کے ہاتھ میں نہ پوست رہا اور نہ مغز بجز خدائے تعالیٰ کے پوشیدہ بندوں کے جو شاذو نادر کے حکم میں ہیں اس لئے یہ زمانہ ایسا نہ رہا کہ خمیر سے خمیر ہو اور ایک چراغ سے دوسرا چراغ روشن ہوسکے اور خدائے تعالیٰ نے دیکھا جو زمین بگڑ گئی اور کوئی نہیں جو آپ اصلاح کرسکتا ہو ایک بھی نہیں اور اس نے دیکھا کہ کاموں اور کلاموں اور نیّات اور عبادات اور ارادات میں فساد راہ پا گیا ہے اور اعمال درست نہیں رہے تب اس نے وعدہ کے موافق آسمان سے اس مقدس شخص کی شبیہہ کو اتارا جس کی پیروی کے دعویٰ کرنے والے