قاؔ ل انّی اعلم ما لا تعلمون۔ قالوا کتاب ممتلئٌ من الکفر والکذب قل تعالوا ندع ابناء نا و ابناء کم و نساء نا و نساء کم و انفسنا و انفسکم ثم نبتھل پیدا ہوتے رہے ہیں پھر آپ اس اقرار سے کہاں بھاگ سکتے ہیں کہ وہ پاک وعدہ جس کو یہ پیارے الفاظ ادا کررہے ہیں کہ3۔۱؂ وہ انہیں دنوں کے لئے وعدہ ہے جو بتلارہا ہے کہ جب اسلام پر سخت بلا کا زمانہ آئے گا اور سخت دشمن اس کے مقابل کھڑا ہوگا اور سخت طوفان پیدا ہوگا تب خدائے تعالیٰ آپ اس کا معالجہ کرے گا اور آپ اس طوفان سے بچنے کے لئے کوئی کشتی عنایت کرے گا وہ کشتی اس عاجز کی دعوت ہے اگر کوئی سن سکتا ہے تو سنے آپ احادیث نبویہ کے تو سرے سے انکاری ہیں پھر ہر ایک صدی پر مجدّد آنے کی حدیث آپ کے سامنے پیش کرنا فضول ہے آپ کیوں اس کو قبول کریں گے اس سے تو فراغت ہے مگر میں آپ کو اسی آیت موصوفہ بالا اور اسی کی مانند اور کئی آیتوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو میں نے اس بحث کے موقعہ پر اسی کتاب میں لکھی ہیں۔ حضرت یہ وہ زمانہ ہے اور یہ وہ آفات ہیں کہ جن کے لئے ضرور تھا کہ عنایت ازلی آپ ہی توجہ کرتی قرآن کریم اسی زمانہ کی بلاؤں کی طرف