مجلسؔ میں وہ مضمون بہرحال سنادوں گا اگر اس وقت طبع ہوگیا ہو یا نہ ہوا ہو۔ لیکن یاد رہے کہ ہماری طرف سے یہ شرط ضروری ہے کہ تکفیر کے فتویٰ لکھنے والوں نے جو کچھ سمجھا ہے اول اس تحریر کی غلطی ظاہر کی جائے اور اپنی طرف سے دلائل شافیہ کے ساتھ اتمام حجت کیا جائے اور پھر اگر باز نہ آویں تو اسی مجلس میں مباہلہ کیا جائے اور مباہلہ کی اجازت کے بارے میں جو کلام الٰہی میرے پر نازل ہوا وہ یہ ہے۔
نظر اللّٰہ الیک معطّرا۔ و قالوا
ا تجعل فیھا من یفسد فیھا
دقیق در دقیق فلسفیانہ اور دہریانہ حملوں کی پہلے وقتوں میں کہاں نظیر مل سکتی ہے اور ان پیچ در پیچ عاقلانہ ہنگاموں کا قرون گزشتہ میں کہاں پتہ لگ سکتا ہے اس قسم کی علمی اور عقلی آفات کسی پہلے زمانہ میں کہاں ہیں جن کا اب اسلام کو سامنا ہوا ہے کب اور کس وقت ایسی مشکلات کسی پہلے زمانہ میں بھی پیش آئی تھیں جو اب پیش آرہی ہیں۔ کیا آپ کو اس بات کا اقرار نہیں کہ یہ اشدّ درجہ کے علمی مباحث کی مصیبتیں اور صعوبتیں جو اب اسلام پر وارد ہیں اس کے پہلے زمانوں میں ایسی مصیبتیں کبھی وارد نہیں ہوئیں اور نہ آدم سے لے کر ایں دم تک اس کی کوئی نظیر پائی جاتی ہے۔ کیا آپ اس بات کو نہیں مانتے کہ اس فلسفہ اور سائنس کی بلا اس بلا سے ہزارہا درجہ شدت اور غلظت میں بڑھ کر ہے جو یونانیوں کے علوم سے اسلامی ملکوں میں پھیلی تھی کیا آپ اس امر واقعہ کو تسلیم نہیں کرتے کہ یہ دشمن جواَب پیدا ہوا ہے اپنی قوّت بازو میں ان تمام دشمنوں کے مجموعہ سے بڑھ کر ہے جو متفرق زمانوں میں