ہیںؔ اور اگر وہ انکار کریں تو پھر شیخ محمد حسین بطالوی اور اگر وہ انکار کریں تو پھر بعد اس کے وہ تمام مولوی صاحبان جو مجھ کو کافر ٹھہراتے اور مسلمانوں میں سرگروہ سمجھے جاتے ہیں اور میں ان تمام بزرگوں کو آج کی تاریخ سے جو دہم دسمبر ۱۸۹۲ء ہے چار ماہ تک مہلت دیتا ہوں اگر چار ماہ تک ان لوگوں نے مجھ سے بشرائط متذکرہ بالا مباہلہ نہ کیا اور نہ کافر کہنے سے باز آئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہوگی میں اول یہ چاہتا تھا کہ وہ تمام بے جا الزامات جو میری نسبت ان لوگوں نے قائم کر کے موجب کفر قرار دیئے ہیں اس رسالہ میں ان کا جواب شائع کروں لیکن بباعث بیمار ہوجانے کاتب اور حرج واقع ہونے کے ابھی تک وہ حصہ طبع نہیں ہوسکا سو میں مباہلہ کی
کا ہاتھ اس پر ہوگا سو وہ خالص اسلام کی کشتی یہی ہے جس پر سوار ہونے کے لئے میں لوگوں کو بلاتا ہوں اگر آپ جاگتے ہو تو اٹھو اور اس کشتی میں جلد سوار ہوجاؤ کہ طوفان زمین پر سخت جوش کررہا ہے اور ہریک جان خطرہ میں ہے اگر آپ انصاف پسند ہوں تو سب سے پہلے آپ اس طوفان کے وجود کا اقرار کرسکتے ہیں بلکہ آپ نے تو کئی جگہ اقرار کردیا ہے کہ اسلام کی کشتی کو طوفان سے بچانے کا وعدہ جو قرآن کریم میں موجود ہے اس طوفان اور اس وعدہ کا زمانہ یہی ہے ایسے طوفان کا زمانہ اس امت پر کبھی نہیں آیا جو اب آگیا دنیا نے کبھی علم اور مذہب کی وہ لڑائیاں نہ دیکھیں جواب ہورہی ہیں کبھی کسی پرانے طبعی اور فلسفہ نے اسلام کا ایسا نقش مٹانا نہ چاہا جو حال کا سائنس مٹانے کی فکر میں ہے کون اس درجہ کی عقلی اور علمی رہزنیوں کا پہلے زمانوں میں کوئی نشان دے سکتا ہے جن کو اب ہم بچشم خود دیکھ رہے ہیں کس کی یہ طاقت ہے کہ اس معقولی طوفان کا نمونہ کسی پہلے وقت میں دکھاوے جس کو اب ہم دن رات مشاہدہ کررہے ہیں۔ ان