مباؔ ہلہ کے لئے اشتہار
اُن تمام مولویوں اور مفتیوں کی خدمت میں جو اس عاجز کو جزئی اختلافات کی وجہ سے یا اپنی نافہمی کے باعث سے کافر ٹھہراتے ہیں عرض کیا جاتا ہے کہ اب میں خدا تعالیٰ سے مامور ہوگیا ہوں کہ تا میں آپ لوگوں سے مباہلہ کرنے کی درخواست کروں اس طرح پر کہ اول آپ کو مجلس مباہلہ میں اپنے عقائد کے دلائل ازروئے قرآن و حدیث کے سناؤں اگر پھر بھی آپ لوگ تکفیر سے باز نہ آویں تو اسی مجلس میں مباہلہ کروں سو میرے پہلے مخاطب میاں نذیر حسین دہلوی
کی گٹھڑیاں دریا میں نہ پھینکتے۔ خیر ہرچہ گذشت گذشت اب میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں اور بشارت پہنچاتا ہوں کہ اس ناخدا نے جو آسمان اور زمین کا خدا ہے زمین کے طوفان زدوں کی فریاد سن لی۔ اور جیسا کہ اس نے اپنی پاک کلام میں طوفان کے وقت اپنے جہاز کو بچانے کا وعدہ کیا ہوا تھا وہ وعدہ پورا کیا اور اپنے ایک بندہ کو یعنی اس عاجز کو جو بول رہا ہے اپنی طرف سے مامور کر کے وہ تدبیریں سمجھادیں جو طوفان پر غالب آویں اور مال و متاع کے صندوقوں کو دریا میں پھینکنے کی حاجت نہ پڑے۔ اب قریب ہے جو آسمان سے یہ آواز آوے کہ 333 ۱ مگر ابھی تو طوفان زور میں ہے اسی طوفان کے وقت خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو مامور کیا اور فرمایا۔ واصنع الفلک باعیننا و وحینا یعنی تو ہمارے حکم سے اور ہماری آنکھوں کے سامنے کشتی طیار کر اس کشتی کو اس طوفان سے کچھ خطرہ نہ ہوگا اور خدائے تعالیٰ