ایساؔ زمانہ آیا کہ مولویوں نے اپنے بھائی مسلمان کو کافر کہہ دینا اور ہمیشہ کے لئے جہنمی قرار دے دینا ایک ایسی سہل بات سمجھ لی کہ جیسے کوئی پانی کا گھونٹ پی لے اسی پرانی عادت کی وجہ سے عاجز کو بھی انہوں نے کافر ٹھہرایا سو اب میں مامور ہوں جو انہیں لوگوں سے جو اَئمۃ التکفیر ہیں یعنی نذیر حسین دہلوی اور شیخ محمد حسین بطالوی اور جو ان کے ہم مرتبہ اور ہم خیال ہیں مباہلہ کی درخواست کروں لہٰذا اس فرض سے سبکدوش ہونے کے لئے ان اَئمۃ التکفیرکے نام پر مباہلہ کا اشتہار ذیل میں شائع کیا جاتا ہے۔ بھی مخفی ہو کہ اس نئے فلسفہ کے طوفان کے وقت اسلام کی کشتی خطرناک حالت میں تھی اور گو وہ کشتی جواہرات اور نفیس مال و متاع سے بھری ہوئی تھی مگر چونکہ وہ تہلکہ انگیز طوفان کے نیچے آگئی تھی اس لئے اس ناگہانی بلا کے وقت یہی مصلحت تھی اور اس کے بغیر کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ کسی قدر وہ جواہرات اور نفیس مال کی گٹھڑیاں دریا میں پھینک دی جائیں اور جہاز کو ذرا ہلکا کر کے جانوں کو بچا لیا جائے لیکن اگر آپ نے اس خیال سے ایسا کیا تو یہ بھی خودروی کی ایک گستاخانہ حرکت ہے جس کے آپ مجاز نہیں تھے اس کشتی کا ناخدا خدا وند تعالیٰ ہے نہ آپ وہ بار بار وعدہ کرچکا ہے کہ ایسے خطرات میں یہ کشتی قیامت تک نہیں پڑے گی اور وہ ہمیشہ اس کو طوفان اور باد مخالف سے آپ بچاتا رہے گا۔ جیسا کہ فرماتا ہے 3 ۱؂ یعنی ہم نے ہی اس کلام کو اتارا اور ہم ہی اس کو بچاتے رہیں گے۔ سو آپ کو چاہیئے تھا کہ آپ اس ناخدا کی غیبی ہدایت کی انتظار کرتے اور دلی یقین سے سمجھتے کہ اگر طوفان آگیا ہے تو اب اس ناخدا کی مدد بھی نزدیک ہے جس کا نام خدا ہے جو مالک جہاز بھی ہے اور ناخدا بھی‘ پس چاہیئے تھا کہ ایسی بے رحمی اور جرأت نہ کرتے اور آپ ہی خود مختار بن کر بے بہا جواہرات کے صندوق اور زر خالص کی تھیلیاں اور نفیس اور قیمتی پارچات