کہلاؔ تے ہیں اور ابناء اور نساء بھی رکھتے ہیں مباہلہ کروں اور پہلے ایک عام مجلس میں ایک مفصل تقریر کے ذریعہ سے اُن کو اپنے دلائل سمجھا دوں اور اُسی مجلس میں اُن کے تمام الزامات اور شبہات کا جو اُن کے دل میں خلجان کرتے ہیں جواب بھی دے دوں اَور پھر اگر کافر کہنے سے باز نہ آویں تو اُن سے مباہلہ کروں مباہلہ اِس بنا پر نہیں ہو گا کہ وہ اپنے اصطلاحی نام اہل سنت والجماعت سے مجھ کو باہر کیوں سمجھتے ہیں کیونکہ اس سے تو مجھ کو کچھ بھی رنج نہیں جب مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک غیر مُقلد جو اپنے تئیں اہل حدیث کہلاتا ہے اَئمہ اربعہ کے مُقلدین کا نام بدعتی اور فیج اعوج رکھتا ہے اور صحابہ کرام کے طریق سے اُن کو باہر سمجھتا ہے اور جماعت سلف کا اُن کو مخالف خیال کرتا ہے ایسا ہی ایک مثلًا حنفی تمام موحدین غیر مقلّدین کو
آپ کا کلام دونوں صورتوں کی گنجائش رکھتا ہے شتر کی بھی اور مرغ کی بھی۔ شاید آپ اپنے اسی پہلے عذر کو جو ابھی میں ردّ کرچکا ہوں دوہرا کر کہیں کہ اس قسم کی تالیفات کی زمانہ کو ضرورت تھی اور شاید آپ کا یہ خیال ہو کہ اگر کسی فتنہ میں تمام مال غارت ہوتا دیکھیں تو یہ کچھ بری بات نہیں کہ اگر کچھ تھوڑا سا نقصان اٹھا کر بڑے نقصان سے بچ سکیں تو بچنے کی کوشش کریں کیونکہ تھوڑے کا ہاتھ سے جانا اس سے بہتر ہے کہ سارا جائے لیکن یہ تمام خیالات آپ کے قلّت تدبر سے ہوں گے۔ آپ کو یاد رہے کہ قرآن کا ایک نقطہ یا شعشہ بھی اوّلین اور آخرین کے فلسفہ کے مجموعی حملہ سے ذرہ سے نقصان کا اندیشہ نہیں رکھتا وہ ایسا پتھر ہے کہ جس پر گرے گا اس کو پاش پاش کرے گا اور جو اس پر گرے گا وہ خود پاش پاش ہوجائے گا پھر آپ کو دب کر صلح کرنے کی کیوں فکر پڑگئی آپ نے اسلام کے لئے بجز اس کے اور کیا کیا ہے کہ فلسفہ موجودہ کے بہت سے باطل خیالات کو مان لیا اور اس کتاب کو جس کے ایک ایک حرف