کہؔ جب چاہے پورے طور پر اپنے ارادات اس میں ڈالتی رہے اور ان ارادات کو خدا تعالیٰ اس دل سے اس دل میں رکھ دیتا ہے غرض یہ سنت اللہ ہے کہ کبھی گذشتہ انبیاء و اولیاء اس طور سے نزول فرماتے ہیں اور ایلیا نبی نے یحیٰی نبی میں ہو کر اسی طور سے نزول کیا تھا سو مسیح کے نزول کی سچی حقیقت یہی ہے جو اس عاجز پر ظاہر کی گئی اور اگر اب بھی کوئی باز نہ آوے تو میں مباہلہ کے لئے طیار ہوں پہلے صرف اس وجہ سے میں نے مباہلہ سے اعراض کیا تھا کہ میں جانتا تھا کہ مسلمانوں سے ملاعنہ جائز نہیں مگر اب مجھ کو بتلایا گیا کہ جو مسلمان کو کافر کہتا ہے اور اس کو اہل قبلہ اور کلمہ گو اور عقائد اسلام کا معتقد پاکر پھر بھی کافر کہنے سے باز نہیں آتا وہ خود دائرہ اسلام سے خارج ہے سو میں مامور ہوں کہ ایسے لوگوں سے جو اَئمۃ التکفیر ہیں اور مفتی اور مولوی اور محدّث
کیوں ڈرتے ہیں اور کیوں اس کے قدموں کے نیچے گرے جاتے ہیں اور کیوں قرآنی آیات کوتاویلات کے شکنجہ پر چڑھا رہے ہیں۔ افسوس کہ جن باتوں میں سے ایک بات کو بھی ماننا اِس امر کو مستلزم ہے کہ اسلام کے سارے عقائد سے انکار کیا جائے ان باتوں کا ایک ذخیرہ کثیرہ آپ نے مان لیا ہے ا ور طرفہ یہ کہ باوجود انکار معجزات ، انکار ملائک، انکار اخبار غیبیہ، انکار وحی، انکار اجابت دعا وغیرہ انکارات کے آپ جا بجا یہ بھی مانتے گئے کہ قرآن برحق ، رسول برحق، اسلام برحق اور مخالف اِس کے سب باطل تو اِن متضاد خیالات کے جمع ہونے کی وجہ سے آپ کی تالیفات اُس عجیب حیوان کی مانند ہو گئیں کہ جو ایسا فرض کیا جائے کہ جس کا منہ آدمی کا ہو اور دُم بندر کی اور کھال بکرے کی اور پنجے بھیڑیئے کے اور دانت ہاتھی کے کھانے کے اور دِکھانے کے اور پھر نہایت افسوس کہ جگہ یہ ہے کہ شیعوں کی طرح آپ کے کلام میں تقیّہ بھی پایا جاتا ہے چنانچہ اپنی بعض رایوں کے بیان کرنے میں آپ ایک ایسی ذوالوجوہ بات بیا ن کر جاتے ہیں جس کا کچھ ماحصل معلوم نہیں ہوتا اور شُتر مُرغ کی طرح