بدمذؔ ہب اور سنت جماعت کے احاطہ سے باہر یقین رکھتا ہے تو پھر مجھے کیوں افسوس کرنا چاہیئے کہ میں کیوں سنت جماعت سے باہر کیا جاتا ہوں درحقیقت اہل سنت والجماعت کہلانا آج کل کسی خاص فرقہ کا حق تسلیم نہیں کیا گیا ہریک اپنے زعم میں اہل سنت ہے اور دوسروں کو اس سے خارج کررہا ہے پس یہ کچھ ایسا جھگڑا نہیں جس کا عنداللہ بہت قدر ہو مگر جزئیات کے اختلاف کی وجہ سے کسی کو جھٹ پٹ کافر کہہ دینا اور ہمیشہ کے جہنم کا سزا وار اس کو ٹھہرانا یہ امر درحقیقت عنداللہ کوئی سہل اور معمولی بات نہیں بلکہ بہت ہی بڑا ہے اور جائے تعجب ہے کہ ایک شخص کلمہ گو ہو اور اہل قبلہ اور موحّد اور اللہ اور رسول کو ماننے والا اور ان سے سچی محبت رکھنے والا اور قرآن پر ایمان لانے والا ہو اور پھر کسی جزئی اختلاف کی وجہ سے وہ ایسا
سے شان خدا نظر آتی ہے۔ فلاسفروں کے خیالات کے تابع کرنا چاہا اور ِ گر کر صلح کے لئے مجبوری ظاہر کی سو میرے خیال میں آپ کی یہ کارروائیاں اس زمانہ کے دجّالی فتنوں سے بچا نہیں سکتیں بلکہ اس کی شاخوں میں سے یہ بھی ایک شاخ ہے کیونکہ آپ نے اسلامی قلعہ کے اندر ہو کر دشمنوں کے لئے دروازہ کھول دیا اور مسلمانوں کے ہاتھ پاؤں باندھنے میں کوشش کی تا دشمن بآرام وامن اس شہر میں داخل ہو کر جس طرح چاہیں دست برد کریں اور مسلمان کچھ ہاتھ پیر نہ ہلا سکیں مگر میری یہی رائے ہے کہ آپ نے یہ طریق عمداً اختیار نہیں کیا۔ بلاشبہ آپ کی نیت بخیر ہوگی۔ کیونکہ آپ کی تالیفات سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ آپ کے اسلامی خیر خواہ ہونے میں شک نہیں گو آپ کی خیر اندیشی درحقیقت بد اندیشی کا کام دے گئی اور یہ قوم کی بدقسمتی ہے کہ ایک مصلح کے پیرایہ میں وہ ضرر آپ سے مسلمانوں کو پہنچ گیا کہ شاید کوئی مفسد بالجہر بھی ایسا ضرر نہ پہنچا سکتا۔ شاید آپ یہ ُ عذر پیش کریں کہ اس طریق کے اختیار کرنے میں ایک