سچا ؔ خدا ہے ہریک نئی دنیا کے لئے نئے نشان دکھلاتا ہے اور ہریک صدی کے سر پر اور خاص کر ایسی صدی کے سر پر جو ایمان اور دیانت سے دور پڑگئی ہے اور بہت سی تاریکیاں اپنے اندر رکھتی ہے ایک قائم مقام نبی کا پیدا کردیتا ہے جس کے آئینہء فطرت میں نبی کی شکل ظاہر ہوتی ہے اور وہ قائم مقام نبی متبوع کے کمالات کو اپنے وجود کے توسط سے لوگوں کو دکھلاتا ہے اور تمام مخالفوں کو سچائی اور حقیقت نمائی اور پردہ دری کے رو سے ملزم کرتا ہے سچائی کی رو سے اس طرح کہ وہ سچے نبی پر ایمان نہ لائے پس وہ دکھلاتا ہے کہ وہ نبی سچا تھا اور اس کی سچائی پر آسمانی نشان یہ ہیں اور حقیقت نمائی کی رو سے اس طرح کہ اس نبی متبوع کے تمام مغلقات دین کا حل کر کے دکھلا دیتا ہے اور تمام شبہات اور اعتراضات کا استیصال کر دیتا
کہ جیسے دو اور دو چار تو پھر کیا وجہ تھی کہ ان کے ماننے اور تسلیم کرنے سے ہمیں نجات کا وعدہ دیا جاتا۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی بدیہی بات کے ماننے اور قبول کرنے سے نجات کو کیا تعلق ہے اگر میں یہ کہوں کہ میں نے مان لیا کہ اب تک جو ۳۰ ؍نومبر ۱۸۹۲ ء ہے سیّد صاحب صحیح سالم زندہ موجود ہیں یا اگر میں قبول کر لوں کہ فی الواقع اتوار کے بعد پیر آتا ہے اور درحقیقت بیس۲۰ کا نصف دس۱۰ ہوتے ہیں تو کیا مجھے ان باتوں پر ایمان لانے اور مان لینے سے کسی ثواب کی توقع رکھنی چاہیئے پھر اگر مثلاً وجود ملائک کا اشیاء مشہودہ محسوسہ کی طرح ہوتا۔ مثلاً ایسا یقینی ہوتا کہ خدائے تعالیٰ آپ کو کوئی فرشتہ پکڑ کر دکھا دیتا اور آپ ملائک کو ہاتھوں سے ٹٹول لیتے اور آنکھوں سے دیکھ لیتے اور ایسا ہی بہشت کی نہریں اور ُ حور اور ِ غلمان آپ کو علی گڑھ میں بیٹھے ہوئے نظر آجاتیں اور شرابِ طہور کا کوئی پیالہ بھی پی لیتے۔ اور دوزخ بھی سامنے نظر آتا تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان تمام کھلم کھلے ثبوتوں کے بعد آپ کا آمنّا و صدّقنا کہنا کیا وزن رکھتا۔