گئی ہیں اور آگے خاتمہ ہے اسلام میں بڑی خوبی یہی ہے کہ اس کی برکات ہمیشہ اس کے ساتھ ہیں اور وہ صرف گذشتہ حصوں۱ کا سبق نہیں دیتا بلکہ موجودہ برکات پیش کرتا ہے دنیا کو برکات اور آسمانی نشانوں کی ہمیشہ ضرورت ہے یہ نہیں کہ پہلے تھیں اور اب نہیں ہیں ضعیف اور عاجز انسان جو اندھے کی طرح پیدا ہوتا ہے ہمیشہ اس بات کا محتاج ہے کہ آسمانی بادشاہت کا اس کو کچھ پتہ لگے اور وہ خدا جس کے وجود پر ایمان ہے اس کی ہستی اور قدرت کے کچھ آثار بھی ظاہر ہوں پہلے زمانہ کے نشان دوسرے زمانہ کے لئے کافی نہیں ہوسکتے کیونکہ خبر معائنہ کی مانند نہیں ہوسکتی اور امتداد زمانہ سے خبریں ایک قصہ کے رنگ میں ہوجاتی ہیں ہریک نئی صدی جو آتی ہے تو گویا ایک نئی دنیا شروع ہوتی ہے اس لئے اسلام کا خدا جو
وقت اپنی نماز میں یہ دعا پڑھتا ہے کہ333 3 اور خدا تعالیٰ نے آپ فرما دیا ہے کہ صراط مستقیم نبیوں کی راہ صدیقوں کی راہ شہیدوں کی راہ ہے پھر ہم سخت نادان ہوں گے اگر ہم ان راہوں کے طلب گار نہ ہوں جن کی طلب کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے اور فلسفیوں کے پیچھے بھٹکتے پھریں اور یہ خیال کہ ہم کو اپنے جمیع عقائد ایسے معقولی طور پر ثابت کرلینے چاہیں کہ جیسے ہندسہ اور حساب اور بعض حصے علوم طبعی کے ثابت ہیں کیونکہ انسان مکلف بعقل ہے پس جو باتیں ہماری عقل سمجھ نہ سکے وہ قبول کرنے کے لائق نہیں ہیں یہ سخت مضر اور مہلک دھوکہ ہے کہ جو آپ کو لگا ہوا ہے اور اسی وجہ سے آپ کی یہ حالت ہے کہ آپ علم اور مذہب کو دو چیز رکھنا نہیں چاہتے بلکہ جمیع مسائل اور عقائد مذہب کو ایسا علم بنانا چاہتے ہیں جو ہندسہ اور حساب کی طرح یا اس سے بھی بڑھ کر ہو مگر افسوس کہ آپ یہ نہیں سوچتے کہ اگر علم دین اور دینی عقائد ایسے علوم بدیہہ میں سے ہوتے
سہو کتابت ہے یہ لفظ ’’ قصوں‘‘ معلوم ہوتاہے۔