ہےؔ ۔اور پردہ دری کے رو سے اس طرح کہ وہ مخالفوں کے تمام پردے پھاڑ دیتا ہے اور دنیا کو دکھلا دیتا ہے کہ وہ کیسے بے وقوف اور معارف دین کو نہ سمجھنے والے اور غفلت اور جہالت اور تاریکی میں گرنے والے اور جناب الٰہی سے دور و مہجور ہیں۔ اس کمال کا آدمی ہمیشہ مکالمہ الہٰیہ کا خلعت پا کر آتا ہے اور زکی اور مبارک اور مستجاب الدعوات ہوتا ہے اور نہایت صفائی سے ان باتوں کو ثابت کرکے دکھلا دیتا ہے کہ خدا ہے اور وہ قادر اور بصیر اور سمیع اور علیم اور مدبّر بالارادہ ہے اور درحقیقت دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اہل اللہ سے خوارق ظاہر ہوتے ہیں پس صرف اتنا ہی نہیں کہ وہ آپ ہی معرفت الہٰیہ سے مالا مال ہے بلکہ اس کے زمانہ میں دنیا کا ایمان عام طور پر دوسرا رنگ پکڑ لیتا ہے اور وہ تمام خوارق جن سے
میرے عزیز سیّد وقت گذرتا جاتا ہے جلد اس نازک اور ضروری مسئلہ کو سمجھ لو کہ مدار اجر ایمان پر ہے اور ایمان اسی طرز کے ماننے کا نام ہے کہ جب امور مسلّمہ چند قرائن سے تو ممکن الوجود نظر آویں مگر ہنوز مخفی اور مستور ہوں کیونکہ ایسے امور کے ماننے سے انسان خدا تعالیٰ کے نزدیک صادق ٹھہر جاتا ہے وجہ یہ کہ اس نے اس کے نبی اور رسول کی خبر کو مان لیا اور اس کے پیغمبر کو مخبر صادق سمجھ لیا سو اس صدق اور حسن ظن سے وہ بخشا جاتا ہے۔ اس دقیق بھید کو تلاش کرنا ہریک عقل مند کا فرض ہے کہ خدائے تعالیٰ نے کیوں ایسا کیا کہ جن امور پر ایمان لانے کی تکلیف دی ان کو ایسا مخفی اور مستور رکھا کہ وہ اس دنیا کی عقل اور اس دنیا کی حکمت اور اس دنیا کے علم سے کھل نہیں سکتے مثلاً ایمانیات میں سے سب سے مقدم امر خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کے علیم اور حکیم اور قادر مطلق اور مدبّر بالارادہ اور واحد لاشریک اور ازلی ابدی اور ذوالعرش اور پھر ہریک جگہ حاضر ناظر ہونے پر ایمان لانا ہے مگر بجز قیاسی باتوں اور خود تراشیدہ خیالات کے اور کونسا پتہ ان امور