حیراؔ ن ہوجاتی ہے کرامت کیا چیز ہے؟ مومن کی دعا جو قبول ہوکر ایک نہایت مشکل اور بعید از عقل کام کو پورا کردیتی ہے اور تمام خلقت کو ایک حیرت میں ڈالتی ہے پھر کیونکر کہا جائے کہ دعا قبول نہیں ہوتی نادان ہے وہ شخص جو ایسا خیال کرتا ہے، بے وقوف ہے وہ فلسفی جو ایسا سمجھتا ہے، یہ دعویٰ بے دلیل نہیں اس پر میرے پاس کھلے کھلے دلائل اور نہایت روشن براہین ہیں جو اپنی آنکھوں پر پٹی باندھتا ہے تا آفتاب نظر نہ آوے وہ کیونکر روشنی کو دیکھ سکتا ہے۔ اب یہ بھی یاد رہے کہ وہ اسلام جس کی خوبیاں ہم بیان کرچکے ہیں وہ ایسی چیز نہیں ہے جس کے ثبوت کے لئے ہم صرف گذشتہ کا حوالہ دیں اور محض قبروں کے نشان دکھلائیں اسلام مردہ مذہب نہیں تا یہ کہا جائے کہ اس کی سب برکات پیچھے رہ خدا تعالیٰ کو علّت العلل سمجھتے ہیں لیکن اس کو مدبّر بالارادہ اور اپنی مخلوق میں متصرف اور عالم جمیع جزئیات کائنات یقین نہیں رکھتے اور کوئی اختیار یا تصرف اس کا عالم پر تسلیم نہیں کرتے سو وہ بھی درحقیقت دہریوں کے چھوٹے بھائی ہیں یہ سچ ہے کہ انسان جہاں سچائی دیکھے اس کو لے لے۔ لیکن ہمیں نہیں چاہیئے کہ مسموم کھانوں میں سے ایک کھانے کو اس خیال سے کھانے لگیں کہ غالباً اس میں زہر نہیں ہوگا یہ یقینی امر ہے کہ ہریک شخص اپنے اصول کے موافق کلام کرتا ہے اور تمام جزئی مباحث اور تحقیقات پر اصول کا اثر پڑا ہوا ہوتا ہے۔ پھر جب کہ فلاسفروں کا اصل عقیدہ دہریت یا اسی کے قریب قریب ہے تو کیا امید ہوسکتی ہے کہ ان کے دوسرے مباحث میں جو اسی اصول کے زیر سلسلہ چلے جاتے ہیں کوئی صلاحیت اور رشد کی بات ہوگی اور خدائے تعالیٰ کے کلام نے ہمیں کون سی ضرورت اور حاجت ان کی طرف باقی رکھی ہے تاہم دانستہ ایسی خطرناک راہ کو اختیار کریں جو ہمیشہ ہلاکت تک پہنچاتی رہی ہے ہریک مسلمان پانچ