ایسیؔ بے معنی لبیک کا فائدہ کیا بلکہ مومن کی دعا ضرور قبول کی جاتی ہے اور اگر قبول کرنا مومن کے حق میں بہتر نہ ہو تو کم سے کم یہ ہوتا ہے کہ مومن کو نرمی اور محبت کی راہ سے بذریعہ محبّانہ مکالمہ کے اس پر اطلاع دی جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ جو تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے سب سے زیادہ رحمت مومن پر ہی کرتا ہے اور ہریک مصیبت کے وقت اسے سنبھالتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے اور اگر تمام دنیا ایک طرف ہو اور مومن ایک طرف تو فتح مومن ہی کو دیتا ہے اور اس کی عمر اور عافیت کے دن بڑھاتا ہے۔ دشمن کہتا ہے کہ وہ ہلاک ہوجائے اور ناپدید ہوجائے پر وہ دشمن کو ہی ہلاک کرتا ہے اور اس کی بدعائیں اسی کے سر پر مارتا ہے پر مومن کی دعا کو قبول کر لیتا ہے اور اس کی دعاؤں کو قبول کر کے وہ خوارق دکھلاتا ہے جن سے دنیا
جو حقیقی خدا دانی کے نتائج ہیں کبھی ان فلاسفروں کو میسر ہوئے ہیں یا اب میسر ہیں۔ کیا فلسفہ کی کتابوں کی ورق گردانی سے اس سچی معرفت کی امید ہے جو نفسانی جذبات سے آزاد کرتی اور محبت الٰہی دل میں بٹھاتی ہے میری دانست میں تو ہرگز نہیں فلسفہ کے علم کا انتہائی معراج تو یہی ہے کہ ایسا انسان جو صرف فلسفہ کا تابع ہے خدا اور رسول اور بہشت اور دوزخ سے بکلّی دست بردار ہوجائے اور تکبر اور رعونت اور نفس پرستی اختیار کر لیوے ان کے نزدیک اقرار وجود ذات مد ّ بر بالارادہ صرف ایک وہم اور صوم و صلوٰۃ تضیع اوقات اور فکر معاد مجنونانہ خیال ہے۔ یہی ان کی تو رگ و پے میں وہ باتیں پھیلی ہوئی ہیں جو ایک ُ پر زور انجن کی طرح ہر دم دہریّت کی طرف کھینچتی چلی جاتی ہیں اسلامی حکمت اور معرفت کا مرکز دائرہ وجود باری اور اس کا مدبّر بالارادہ ہونا اور اس کا واحد لا شریک ہونا ہے اور اسی کے مناسب حال ہمارے دین کے تمام مسائل ہیں اور فلسفیوں کی حکمت اور معرفت کا اصل مرکز دائرہ دہریت ہے اور اسی کے مناسب حال ان کی تمام تحقیقاتیں ہیں ہاں ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو صرف برائے نام