اورؔ اُس کے دین سے محض بیگانہ ہے اگر صرف دعا کا سن لینا اجابت میں داخل ہے اور اس سے زیادہ کوئی بات نہیں تو پھر ہریک کہہ سکتا ہے کہ میری دعا رد نہیں ہوئی کیونکہ اگر اجابت سے مطلب صرف اطلاع بر دعا ہے تو پھر کون شخص ہے جس کی دعا سے خدا تعالیٰ بے خبر رہتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ بباعث اپنی صفت علیم اور خبیر اور سمیع ہونے کے ہریک بات کو سنتا ہے اور ہریک شخص کی آواز اس تک پہنچ جاتی ہے پھر ایسے سننے میں مومن اور غیر مومن کی دعا میں فرق کیا ہے اور یہ کہنا کہ مومن کو لبیک کہتا ہے اور دوسرے کو نہیں یہ کیونکر ثابت ہو جب کہ اصل محرومی میں مومن اور غیر مومن دونوں مساوی ہیں تو ایک کافر بھی کہہ سکتا ہے کہ میری دعا پر لبیک کہا گیا ہے تو اب اس کا کون فیصلہ کرے کہ نہیں کہا گیا۔ اور ہے جو درحقیقت سرچشمہ نجات ہے صرف اس سچے عرفان سے حاصل ہوتا ہے جو صابر انسان کو بعد ایمان کے ملتا ہے پرانے یا نئے فلسفہ کے ذریعہ سے ہرگز حاصل نہیں ہوسکتا لیکن ان لوگوں پر یہ امر مشتبہ رہتا ہے کہ جو نہ ایمان کو مرتبہ کمال تک پہنچاتے ہیں تا اس کے انوار معلوم کریں اور نہ فلسفہ میں پوری ترقی کرتے ہیں تا اس کے زہریلے اثر پورے طور پر ان پر ظاہر ہوں۔ہریک چیز کی پوری حقیقت اس کے کمال سے کھلتی ہے مثلاً اگر کسی زہر یا تریاق کی اصل حقیقت معلوم کرنی ہو تو اس کی پوری خوراک کھا کر دیکھیں اور اگر کسی فلاسفر یا نبی کی ہدایت کے نتائج کاملہ دریافت کرنے مقصود ہوں تو پورے طور پر اس کے چیلے یا متبعین بنیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ فلسفہ کا کمال جس حد تک انسان کو پہنچاتا رہا ہے اور اب بھی پہنچاتا ہے وہ وہی حد ہے جس کو دہریت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ کیا آپ کا گمان ہے کہ حقیقی خدادانی کے وہ لوگ وارث ہیں جو فلاسفر کہلاتے ہیں۔ کیا حقیقی انکسار اور حقیقی تقویٰ اور حقیقی خدا ترسی اور کامل طور پر خدائے تعالیٰ کی عظمتوں کو دل میں بٹھانا