باطلؔ ہیں کہ قبولیت دعا کچھ چیز نہیں اور تحصیل مرادات کے لئے دعا کرنا نہ کرنا برابر ہے یاد رکھنا چاہیئے کہ مومن پر خدا تعالیٰ کے فضلوں میں سے یہ ایک بڑا بھاری فضل ہوتا ہے جو اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس کی درخواستیں گو کیسے ہی مشکل کاموں کے متعلق ہوں اکثر بہ پایہء اجابت پہنچتی ہیں اور دراصل ولایت کی حقیقت یہی ہے جو ایسا قرب اور وجاہت حاصل ہوجائے جو بہ نسبت اوروں کے بہت دعائیں قبول ہوں کیونکہ ولی خدا تعالیٰ کا دوست ہوتا ہے اور خالص دوستی کی یہی نشانی ہے کہ اکثر درخواستیں اس کی قبول کی جائیں۔ پس جو شخص کہتا ہے کہ دعا قبول ہونے کے اس سے زیادہ اور کچھ معنی نہیں کہ خدا تعالیٰ تک اس کی آواز پہنچ جاتی ہے اور خدائے تعالیٰ جان لیتا ہے کہ اس نے دعا کی ہے۔ ایسا شخص مسخرہ ہے اور خداتعالیٰ کی کتاب
آسمانی روشنی شے دیگر ہے اور مغربی علوم کی روشنی دیگر۔ اگر آپ کو اس روشنی کی تاریکیوں اور مضرتوں کی کچھ خبر ہوتی تو آپ اسلام کی امیّت کو اس نابکار روشنی پر بہ ہزار مرتبہ ترجیح دیتے اور دین العجائز اختیار کر کے اور اس زمانہ کے دجّالی فتنوں سے ڈر کر اور ایمانی امور پر صبر کی خواہش کر کے ہمیشہ تضرع سے یہ دعا کیا کرتے کہ 33۔۱ آپ کو معلوم رہے کہ فلسفہ موجودہ ثابت شدہ صداقتوں کے مقابل پر بالکل مردہ اور بے طاقت ہے کوئی علم نیا ہو یا پرانا واقعات صحیحہ پر غالب نہیں آسکتا اگر میں دو اور دو کو چار کہوں تو مجھے اس سے کیا اندیشہ ہے کہ کوئی بڑا فلاسفر میری مخالفت پر کھڑا ہے یا اگر میں دن کو دن ہی سمجھوں تو مجھے کیوں اس بات سے ڈرنا چاہیئے کہ ایک گروہ فلاسفروں کا میرے سامنے اس وقت دن کو رات کہہ رہا ہے کوئی غذا بدن کو ایسی قوت نہیں پہنچا سکتی کہ جیسے برہان یقینی اور انکشاف تام دل کو اور یہ انکشاف اور یہ برہان جو معرفت الٰہی اور معاد میں مطلوب