کیؔ صحبت سے واپس آتے وقت ایک چمکتا ہوا شعلہ اپنے ساتھ لاتا ہے پس ایک عارف اور کامل انسان اس وقت مکالمہ الہٰیہ کے لئے نہایت ہی استعداد قریبہ رکھتا ہے جب وہ دردمند ہوکر آستانہ الٰہی پر گرتا ہے اور ہریک طرف سے منقطع ہو کر اس موافقت اور مصادقت کو جو اس کے رگ و ریشہ میں رچی ہوئی ہے ایک تازہ اور نیا جوش دیتا ہے اور درد ناک روح کے ساتھ خدا تعالیٰ کی مدد کے لئے التجا کرتا ہے۔ تب خدا تعالیٰ اس کی سنتا ہے اور اسے تودد اور محبت کے ساتھ جواب دیتا ہے اور اس پر رحم کرتا ہے اور اس کی دعاؤں کو اکثر قبول فرما لیتا ہے۔ آج کل کے بعض ملحدانہ خیال والے جو یورپ کے فلسفہ اور نیچر کے تابع ہوگئے ہیں اور اجابت اور قبولیت دعا سے منکر ہیں ان کے یہ خیالات سراسر گو وہ کیسے ہی غریب اور نادر ہوں مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدائی کاموں کے ہم پلّہ ہیں لیکن وہ وحی جس کا ہم نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے جس کی بابرکت آوازیں ہم نے اپنے کانوں سے سنی ہیں وہ بلاشبہ انسان کی فطرت سے مافوق اور الوہیت کی زبردست طاقتیں اپنے اندر رکھتی ہے جس کے دیکھنے سے گویا ہم خدا تعالیٰ کا چہرہ دیکھتے ہیں اور وہ خدائے تعالیٰ کا ویسا ہی قول خالص ہے جیسا کہ زمین اور آفتاب اور ماہتاب خدا تعالیٰ کا فعل خالص۔ اور بلاشبہ وہ انسانی فطرت کی حدود سے ایسا ہی بلند تر ہے جیسا کہ خدا انسان سے اگر آپ تھوڑی سی زحمت اٹھا کر اور بزرگواری کے حجابوں سے الگ ہو کر چند ہفتہ اس عاجز کی صحبت میں رہیں تو میں امید رکھتا ہوں کہ آپ کے بہت سے امور مافوق العقل بڑی آسانی سے آپ کو معقول اور ممکن دکھائی دیں۔ گو آپ اپنے خیال میں فلسفہ اور سائنس کا نچوڑ اپنے دماغ میں جمع رکھتے ہیں اور نیچر کے تمام درجے طے کر کے نئی روشنی سے منور ہوچکے ہیں لیکن عزیز من (ناراض نہ ہوں))