کارؔ خانہ میں مستقل دخیل قرار دیں بلکہ ہمیشہ مسبب پرنظر رہے نہ اسباب پر۔ تیسر۳ا درجہ توحید کا یہ ہے کہ تجلّیات الہٰیہ کا کامل مشاہدہ کر کے ہریک غیر کے وجود کو کالعدم قرار دیں اور ایسا ہی اپنے وجود کو بھی غرض ہریک چیز نظر میں فانی دکھائی دے بجز اللہ تعالیٰ کی ذات کامل الصفات کے۔ یہی روحانی زندگی ہے کہ یہ مراتب ثلاثہ توحید کے حاصل ہوجائیں۔ اب غور کر کے دیکھ لو کہ روحانی زندگی کے تمام جاودانی چشمے محض حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طفیل دنیا میں آئے ہیں یہی اُ ّ مت ہے کہ اگرچہ نبی تو نہیں مگر نبیوں کی مانند خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہوجاتی ہے اور اگرچہ رسول نہیں مگر رسولوں کی مانند خدا تعالیٰ کے روشن نشان اس کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں اور روحانی زندگی کے دریا اس میں بہتے ہیں اور کوئی نہیں کہ اس کا مقابلہ کرسکے۔ کوئی ہے کہ جو برکات اور نشانوں کے دکھلانے کے لئے مقابل میں کھڑا ہو کر ہمارے اس دعویٰ کا جواب دے !!!۔
ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے
کوئی دیں۔ دینِ محمدؐ سا نہ پایا ہم نے
کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلاوے
یہ ثمر باغ محمدؐ سے ہی کھایا ہم نے
ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا
نور ہے نور اٹھو دیکھو سنایا ہم نے
اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا
کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے
تھک گئے ہم تو انہیں باتوں کو کہتے کہتے
ہر طرف دعوتوں کا تیر چلایا ہم نے
آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند
ہر مخالف کو مقابل پہُ بلایا ہم نے
یونہی غفلت کے لحافوں میں پڑے سوتے ہیں
وہ نہیں جاگتے سو بار جگایا ہم نے
جل رہے ہیں یہ سبھی بغضوں میں اورکینوں میں
باز آتے نہیں ہر چند ہٹایا ہم نے