آؤؔ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے لو تمہیں طور تسلّی کا بتایا ہم نے آج ان نوروں کا اِک زور ہے اِس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کے وجود اپنا ملایا ہم نے مصطفی پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت اس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے اُس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں لاجرم غیروں سے دل اپنا چھڑایا ہم نے مورد قہر ہوئے آنکھ میں اغیار کے ہم جب سے عشق اس کاتہِ دل میں بٹھایا ہم نے زعم میں ان کے مسیحائی کا دعویٰ میرا افترا ہے جسے از خود ہی بنایا ہم نے کافر و ملحد و دجّال ہمیں کہتے ہیں نام کیا کیا غمِ ملّت میں رکھایا ہم نے گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیض گھٹایا ہم نے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمدؐ تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے تیری اُلفت سے ہے معمور مرا ہر ذرّہ اپنے سینہ میں یہ اک شہر بسایا ہم نے صفِ دشمن کو کیا ہم نے بہ حجت پامال سیف کا کام قلم سے ہی دکھایا ہم نے نور دکھلا کے تیرا سب کو کیاملزم و خوار سب کا دل آتش سوزاں میں جلایا ہم نے نقش ہستی تری الفت سے مٹایا ہم نے اپنا ہر ذرّہ تری راہ میں اڑایا ہم نے تیرا میخانہ جو اِک مرجع عالم دیکھا ُ خم کا ُ خم منہ سے بصد حرص لگایا ہم نے شانِ حق تیرے شمائل میں نظر آتی ہے تیرے پانے سے ہی اُس ذات کو پایا ہم نے چھو کے دامن ترا ہر دام سے ملتی ہے نجات لاجرم در پہ ترے سر کو جھکایا ہم نے دلبرا مجھ کو قسم ہے تری یکتائی کی آپ کو تیری محبت میں بھلایا ہم نے