میںؔ سے نہ نکلے کیونکہ اگر کوئی آفتاب کی طرف سے اپنے گھر کے کواڑ بند کر کے ایک تاریک گوشہ میں بیٹھ جائے تو اگر اس تک آفتاب کی روشنی نہ پہنچے تو یہ آفتاب کا قصور نہیں بلکہ خود اس شخص کا قصور ہے جس نے ایسا کیا ماسوا اس کے اگرچہ یہ لوگ کیسے ہی محجوب اور دوراز حقیقت ہیں مگر پھر بھی علانیہ توحید کے قائل ہیں کسی انسان کو خدا نہیں بناتے اور بہ برکت توحید اپنے اندر ایک نور بھی رکھتے ہیں اور کسی قدر زندگی کی حرارت ان میں موجود ہے اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ بالکل مر گئے اگرچہ خطرناک حالت میں ہیں اگر کوئی عیسائی یا ہندو ہماری طرف سے منہ پھیر کر ایسی نکتہ چینی کرے تو وہ سخت متعصب یا سخت نادان ہے باغ میں کانٹوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ جہاں پھول ہیں کانٹے بھی ہوں گے۔ مگر فرقہ مخالفہ میں تو سراسر کانٹوں کا ہی انبار نظر آتا ہے۔ عیسائیوں کی یہ سراسر بے ہودہ باتیں ہیں کہ مسیحؑ روحانی قیامت تھا اور مسیح میں ہو کر ہم جی اٹھے حضرات عیسائی خوب یاد رکھیں کہ مسیح علیہ السلام کا نمونہ قیامت ہونا سرمو ثابت نہیں اور نہ عیسائی جی اٹھے بلکہ مردہ اور سب مردوں سے اول درجہ پر اور تنگ و تاریک قبروں میں پڑے ہوئے اور شرک کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں نہ ایمانی روح ان میں ہے نہ ایمانی روح کی برکت بلکہ ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ توحید کا جو مخلوق پرستی سے پرہیز کرنا ہے وہ بھی ان کو نصیب نہیں ہوا اور ایک اپنے جیسے عاجز اور ناتوان کو خالق سمجھ کر اس کی پرستش کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ توحید کے تین درجے ہیں سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اپنے جیسی مخلوق کی پرستش نہ کریں نہ پتھر کی نہ آگ کی نہ آدمی کی نہ کسی ستارہ کی دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسباب پر بھی ایسے نہ گریں کہ گویا ایک قسم کا ان کو ربوبیت کے