اصلاؔ ح فتن بھی مشرق ہی ہے۔ اور اس جگہ ایک نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسا اللہ جلّ شانُہٗنے ظاہر الفاظ آیت میں 33کا لفظ استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ لوگ جو کمالات میں صحابہ کے رنگ میں ظاہرہوں گے وہ آخری زمانہ میں آئیں گے ایسا ہی اس آیت میں 3 کے تمام حروف کے اعداد سے جو ۱۲۷۵ ہیں اس بات کی طرف اشارہ کردیا جو 3 کا مصداق جو فارسی الاصل ہے اپنے نشاء ظاہر کا بلوغ اس ِ سن میں پورا کر کے صحابہ سے و زراعتھم یعنی اے علی ان سے اور ان کے مددگاروں اور ان کی کھیتی سے کنارہ کر اور ان کو چھوڑ دے اور ان سے منہ پھیر لے اور میں نے پایا کہ اس فتنہ کے وقت صبر کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو فرماتے ہیں اور اعراض کے لئے تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو ہی حق پر ہے مگر ان لوگوں سے ترک خطاب بہتر ہے۔ اور کھیتی سے مراد مولویوں کے پیروؤں کی وہ جماعت ہے جو ان کی تعلیموں سے اثر پذیر ہے جس کی وہ ایک مدت سے آبپاشی کرتے چلے آئے ہیں۔ پھر بعد اس کے میری طبیعت الہام کی طرف منحدر ہوئی اور الہام کے رو سے خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ایک شخص مخالف میری نسبت کہتا ہے۔ ذرونی اقتل موسٰی یعنی مجھ کو چھوڑو تا میں موسیٰ کو یعنی اِس عاجز کو قتل کردوں۔ اور یہ خواب رات کے تین بجے قریباً بیس منٹ کم میں دیکھی تھی اور صبح بدھ کا دن تھا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔