مناؔ سبت پیدا کرلے گا سو یہی سن ۱۲۷۵ ہجری جو آیت 3 3 ۱؂ کے حروف کے اعداد سے ظاہر ہوتا ہے اس عاجز کی بلوغ اور پیدائش ثانی اور تو ّ لد روحانی کی تاریخ ہے جو آج کے دن تک چونتیس برس ہوتے ہیں۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ 3 کا لفظ جمع ہے پھر ایک پر کیونکر اطلاق پاسکتا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کا ایک پر اطلاق کردیا ہے کیونکہ آپ نے اس آیت کی شرح کے وقت سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ فارس کے اصل سے ایک ایسا رجل پیدا ہوگا کہ قریب ہے جو ایمان کو ثریا سے زمین پر لے آوے یعنے وہ ایسے وقت میں پیدا ہوگا کہ جب لوگ بباعث شائع ہوجانے فلسفی خیالات اور پھیل جانے دہریت اور ٹھنڈے ہوجانے الٰہی محبت کے ایمانی حالت میں نہایت ضعیف اور نکمّے ہو جائیں گے تب خدا تعالیٰ اس کے ہاتھ سے اور اس کے وجود کی برکت سے دوبارہ حقیقی ایمان لوگوں کے دلوں میں پیدا کرے گا گویا گم شدہ ایمان آسمان سے پھر نازل ہوگا۔ اور قرآن کریم میں جمع کا لفظ واحد کے لئے آیا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اُ ّ مت کہا گیا ہے حالانکہ وہ ایک فرد تھے ماسوا اس کے اس آیت میں اس تفہیم کی غرض سے بھی یہ لفظ اختیار کیا گیا ہے کہ تا ظاہر کیا جائے کہ وہ آنے والا ایک نہیں رہے گا بلکہ وہ ایک جماعت ہوجائے گی جن کو خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہوگا اور وہ اس ایمان کی رنگ و بو پائے گی جو صحابہ کا ایمان تھا۔ اب پھر ہم پرچہ نور افشاں کے بے بنیاد دعویٰ کے ابطال کی غرض سے لکھتے ہیں کہ اگر اس محرّف مبدل انجیل کی نسبت جو عیسائیوں کے ہاتھ میں ہے خاموش ۱؂ الجمعۃ :