ظہوؔ ر آخری زمانہ میں بلاد مشرقیہ سے قرار دیا گیا ہے اور د ّ جال کا ظہور بھی آخری زمانہ میں بلاد مشرقیہ سے قرار دیا گیا ہے۔ ان دونوں حدیثوں کے ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص دجال کے مقابل پر آنے والا ہے وہ یہی شخص ہے اور سنت اللہ بھی اسی بات کو چاہتی ہے کہ جس ملک میں دجال جیسا خبیث پیدا ہوا اسی ملک میں وہ طیّب بھی پیدا ہو۔ کیونکہ طبیب جب آتا ہے تو بیمار کی طرف ہی رخ کرتا ہے اور یہ نہایت تعجب کا مقام ہے کہ بموجب احادیث صحیحہ کے دجال تو ہندوستان میں پیدا ہو اور مسیح دمشق کے میناروں پر جا اترے اس میں شک نہیں کہ مدینہ منورہ سے ہندوستان سمت مشرق میں واقع ہے بلاشبہ حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ مشرق کی طرف سے ہی دجّال کا ظہور ہوگا اور مشرق کی طرف سے ہی رایات سود مہدی اللہ کے ظاہرہوں گے گویا روز ازل سے یہی مقرر ہے کہ محل فتن بھی مشرق ہی ہے اور محل مکرر یہ کہ ۱۸؍ اکتوبر ۱۸۹۲ ؁ء کے بعد ۷ ؍دسمبر ۱۸۹۲ ؁ء کو ایک اور رؤیا دیکھا کیا دیکھتا ہوں کہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ بن گیا ہوں یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتا ہوں کہ وہی ہوں اور خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کرلیتا ہے سو اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضیٰ ہوں۔ اور ایسی صورت واقعہ ہے کہ ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہورہا ہے یعنی وہ گروہ میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے تب میں نے دیکھا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہیں اور شفقت اور تو دّد سے مجھے فرماتے ہیں۔ یا علی دعھم و انصارھم