اورؔ جس کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیج اعوج رکھا ہے اور اس زمانہ کا آخری حصہ جو مسیح موعود کے زمانہ اقبال سے ملحق ہے اس کا حال احادیث نبویہ کے رو سے نہایت ہی بدتر معلوم ہوتا ہے* بیہقی نے اس کے بارے میں ایک حدیث لکھی ہے یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس زمانہ کے مولوی اور فتوےٰ دینے والے ان تمام لوگوں سے بدتر ہوں گے جو اس وقت روئے زمین پر موجود ہوں گے اور حجج الکرامہ میں لکھا ہے کہ درحقیقت مہدی اللہ (مسیح موعود) پر کفر کا فتویٰ دینے والے یہی لوگ ہوں گے اس بات سے اکثر مسلمان بے خبر ہیں کہ احادیث سے ثابت ہے کہ مسیح موعود پر بھی کفر کا فتویٰ ہوگا چنانچہ وہ پیشگوئی پوری ہوئی غرض وہ زمانہ جو اول زمانہ اور مسیح موعود کے زمانہ کے بیچ میں ہے نہایت
جب یہ عاجز نور افشاں کے جواب میں اس بات کو دلائل شافیہ کے ساتھ لکھ چکا کہ درحقیقت روحانی قیامت کے مصداق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور کسی قدر نعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو درحقیقت احاطہ بیان سے خارج ہے ان عبارات میں درج کرچکا اور نیز بطور نمونہ کچھ مناقب و محامد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اسی ثبوت کے ذیل میں تحریر کرچکا تو وہ ۱۷؍ اکتوبر ۱۸۹۲ ء کا دن تھا۔ پھر جب میں رات کو بعد تحریر نعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مناقب و محامد صحابہ رضی اللہ عنہم سو یا تو مجھے ایک نہایت مبارک اور پاک رویا دکھایا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک وسیع مکان میں ہوں جس کے نہایت کشادہ اور وسیع دالان ہیں اور نہایت مکلف فرش ہورہے ہیں اور اوپر کی منزل ہے اور میں ایک جماعت کثیر کو ربانی حقائق و معارف سنا رہا ہوں اور ایک اجنبی اور غیر معتقد مولوی اس جماعت میں بیٹھا ہے جو ہماری جماعت میں سے نہیں ہے۔ مگر میں اس کا ُ حلیہ پہچانتا ہوں وہ لاغر اندام اور سفید ریش ہے
*حاشیہ
ایک رؤیا
کے بیان
میں
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا بیان