فاسدؔ زمانہ ہے چنانچہ اس زمانہ کے لوگوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں خیر ھذہ الامۃ اوّلھا و اٰخرھا۔ اوّلھا فیھم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و اٰخرھا فیھم عیسی بن مریم و بین ذالک فیج اعوج لیسوا منی و لست منھم یعنی امتیں دو۲ ہی بہتر ہیں ایک اول اور ایک آخر اور درمیانی گروہ ایک لشکر کج ہے جو دیکھنے میں ایک فوج اور روحانیت کے رو سے مردہ ہے نہ وہ مجھ سے اور نہ میں ان میں سے ہوں۔ حدیث صحیح میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ 3 تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا لوکان الایمان عند الثریّا
اس نے میرے اس بیان میں دخل بے جا دے کر کہا کہ یہ باتیں کُنہ باری میں دخل ہے اور کُنہ باری میں گفتگو کرنے کی ممانعت ہے تو میں نے کہا کہ اے نادان ان بیانوں کو کنہ باری سے کچھ تعلق نہیں یہ معارف ہیں اور میں نے اس کے بے جا دخل سے دل میں بہت رنج کیا اور کوشش کی کہ وہ چپ رہے مگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آیا تب میرا غصہ بھڑکا اور میں نے کہا کہ اس زمانہ کے بد ذات مولوی شرارتوں سے باز نہیںآتے خدا ان کی پردہ دری کرے گا اور ایسے ہی چند الفاظ اور بھی کہے جواب مجھے یاد نہیں رہے۔ تب میں نے اس کے بعد کہا کہ کوئی ہے کہ اس مولوی کو اس مجلس سے باہر نکالے تو میرے ملازم حامد علی نام کی صورت پر ایک شخص نظر آیا اس نے اٹھتے ہی اس مولوی کو پکڑ لیا اور دھکے دے کر اس کو اس مجلس سے باہر نکالا اور زینہ کے نیچے اتار دیا تب میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جماعت کے قریب ایک وسیع چبوترہ پر کھڑے ہیں اور یہ بھی گمان گذرتا ہے کہ چہل قدمی کررہے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ جب مولوی کو نکالا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ کے۱
۱ کے کے بعد کاتب سے یہاں لفظ ’’قریب‘‘ چھوٹ گیا ہے۔ شمس ؔ