جو ؔ مسیح موعود کا زمانہ اور مصداق آیت و آخرین منہم کا ہے وہ وہی زمانہ ہے جس میں ہم ہیں۔ جیسا کہ مولوی صدیق حسن مرحوم قنوجی ثم بھوپالوی جو شیخ بطالوی کے نزدیک مجدّد وقت ہیں اپنی کتاب حجج الکرامہ کے صفحہ ۱۵۵ میں لکھتے ہیں کہ آخریت ایں امت از بدایت الف ثانی شروع کردیدہ آثار تقویٰ از اوّل گم شدہ بودند و اکنوں سطوت ظاہری اسلام ہم مفقودہ شدہ۔ تمّ کلامہٗ اور یہ تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی زمانے نیک قرار دیئے ہیں ایک صحابہ کا زمانہ جس کا امتداد اس حد تک متصور ہے جس میں سب سے آخر کوئی صحابی فوت ہوا ہو اور امتداد اس زمانہ کا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے وقت تک ثابت ہوتا ہے اور دوسرا زمانہ وسط ہے جس کو بلحاظ بدعات کثیرہ اُمّ الخبائث کہنا چاہیئے
ثبوتوں کے بعد بلاشبہ ملائک کے وجود کی ضرورت ثابت ہوتی ہے اور ایمانی امور کے لئے صرف اس قدر ثبوت کی حاجت ہے تا تکلیف مالا یطاق نہ ہو اور نیز ایمان لانے کا ثواب بھی ضائع نہ ہو کیونکہ اگر ملائک کے وجود کا ایسا ثبوت دیا جاتا کہ گویا ان کو پکڑ کر دکھلا دیا جاتا تو پھر ایمان ایمان نہ رہتا۔ اور نجات کی حکمت عملی فوت ہو جاتی ۔ فافھم و تدبّر و لا تکن من المستعجلین۔ منہ
طرف کھینچ لے کفر اور شرک بہت بڑھ گیا اور اسلام کم ہوگیا۔ اب اے کریم! مشرق اور مغرب میں توحید کی ایک ہوا چلا اور آسمان پر جذب کا ایک نشان ظاہر کر اے رحیم! تیرے رحم کے ہم سخت محتاج ہیں۔ اے ہادی! تیری ہدایتوں کی ہمیں شدید حاجت ہے مبارک وہ دن جس میں تیرے انوار ظاہر ہوں کیا نیک ہے وہ گھڑی جس میں تیری فتح کا نقارہ بجے۔ توکّلنا علیک و لا حول و لا قوّۃ الّا بک و انت العلیّ العظیم۔ منہ