رہےؔ گی تب خدا تعالیٰ کسی نفس سعید کو بغیر وسیلہ ظاہری سلسلوں اور طریقوں کے صرف نبی کریم کی روحانیت کی تربیت سے کمال روحانی تک پہنچا دے گا اور اس کو ایک گروہ بنائے گا اور وہ گروہ صحابہ کے گروہ سے نہایت شدید مشابہت پیدا کرے گا کیونکہ وہ تمام و کمال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی زراعت ہوگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان ان میں جاری و ساری ہوگا اور صحابہ سے وہ ملیں گے یعنی اپنے کمالات کے رو سے اُن کے مشابہ ہوجائیں گے اور ان کو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہی موقعے ثواب حاصل کرنے کے حاصل ہوجائیں گے جو صحابہ کو حاصل ہوئے تھے اور بباعث تنہائی اور بے کسی اور پھر ثابت قدمی کے اسی طرح خدا تعالیٰ کے نزدیک صادق سمجھے جائیں گے کہ جس طرح صحابہ سمجھے گئے تھے کیونکہ یہ زمانہ بہت سی آفتوں اور فتنوں اور بے ایمانی کے کہ اس کے حکم اور ارادہ کے بغیر ایک پتہ بھی ہل نہ سکے اور پھر یہ ثبوت دیں گے کہ جن مصالح دقیقہ کے ساتھ خدا تعالیٰ اپنے بندوں پراپنا فیضان بذریعہ شمس و قمر و نجوم خواہ وہ عربی ہوں یا انگریزی یا ہندی پہلے ان کا وجود ضروری ہے سو یہ تو پہلا مرتبہ ہوا جو مضامین مقصودہ کے اظہار کے لئے ایک ذریعہ بعیدہ ہے مگر ان سے کچھ حصہ نہیں رکھتا پھر بعد اس کے دوسرا مرتبہ کلمات کا ہے جو حروف قرار دادہ سے پیدا ہوں گے جن کو معانی و مضامین مقصودہ سے ابھی کچھ حصہ نہیں مگر ان کے حصول کے لئے ایک ذریعہ قریبہ ہیں۔ پھر اس کے بعد تیسرا مرتبہ فقرات کا ہے جو ابھی معانی مقصودہ کے پورے جامع تو نہیں مگر ان میں سے کچھ حصہ رکھتے ہیں اور اس مضمون کے لئے جو منشی کے ذہن میں ہے بطور بعض اعضا کے ہیں۔ پھر چوتھا مرتبہ کلام جامع تام کا ہے جو منشی کے دل میں سے نکل کر بہ تمام و کمال کاغذ پر اندراج پاگیا ہے اور تمام معانی اور